اپوزیشن وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، پر امن احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
فائل فوٹو۔
اپوزیشن کے وفد نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی لوگ بیٹھتے ہیں تو سیاست پر بات ہوتی ہے، ہم نے جمہوری انداز سے پر امن احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اپنے مطالبے پر قائم ہیں اور 8 فروری کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، ہم نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے بسنت کو ملتوی کیا جانا اچھا ہے، ہمیں غلطیوں کو ماننا ہوگا اور آگے بڑھنا ہو گا۔
انھوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف کئی بار مولانا فضل الرحمان کے پاس آچکے ہیں، کوئی بری بات نہیں کہ شہباز شریف میرے پاس آئیں یہ بڑا پن ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری جماعت نے کوئی جلسہ یا جلوس رکھا ہے تو اسے منسوخ کرتے ہیں، آج تک اپوزیشن کی اپیلیں عدالت اور ٹریبونل میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔