لانڈھی ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں لگنے والی آگ تیسرے درجے کی قرار، دوسری فیکٹری بھی لپیٹ میں آگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے صنعتی علاقے لانڈھی میں واقع ایکسپورٹ پراسسنگ زون کی پلاسٹک فیکٹری میں لگنے والی آگ شدت اختیار کر گئی، جس کے بعد اسے تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دے دیا گیا۔ آگ لگنے کا واقعہ رات تقریباً 8 بجے پیش آیا، جس نے تیزی سے پھیلتے ہوئے فیکٹری کی پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر شہر کے مختلف علاقوں سے فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں، ریسکیو اہلکار اور واٹر ٹینکر طلب کیے گئے، جبکہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ آگ بجھانے کے لیے 10 سے زائد فائر ٹینڈر اور اسنارکل مشینیں مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق آگ کی شدت انتہائی زیادہ ہے اور شعلے تین اطراف سے فیکٹری کو گھیر چکے ہیں، جبکہ آتشزدگی 2 فیکٹریوں تک پھیل چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیر کورٹ سے قائدآباد تک شدید ٹریفک جام کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو موقع پر پہنچنے میں مشکلات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے متاثرہ فیکٹری سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کے ایم سی اور فائر سروسز کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، متاثرہ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو فوری امداد فراہم کی جائے اور ریسکیو آپریشن کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔