دنیا کی تیز ترین لفٹ: چین میں قائم نیا ریکارڈ، چند سیکنڈز میں سینکڑوں میٹر کا سفر
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوانگزو :جدید دور میں جہاں انسان وقت کی بچت اور سہولت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، وہیں بلند و بالا عمارتوں میں لفٹس روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے تیز ترین لفٹ کہاں موجود ہے اور یہ کس رفتار سے مسافروں کو منزل تک پہنچاتی ہے؟ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا کی تیز ترین لفٹ چین کے شہر گوانگزو میں واقع سی ٹی ایف فنانس سینٹر میں نصب کی گئی ہے، جس نے رفتار کے میدان میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
یہ انتہائی جدید لفٹ جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی ہیٹاچی (Hitachi) نے تیار کی ہے، جو اپنی غیر معمولی رفتار اور جدید حفاظتی نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اس لفٹ کی رفتار تقریباً 1,260 میٹر فی منٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ تقریباً 75.
سی ٹی ایف فنانس سینٹر میں نصب یہ لفٹ تقریباً 440 میٹر کی بلندی تک جاتی ہے اور چند ہی سیکنڈز میں مسافروں کو نچلی منزل سے بالائی منزل تک پہنچا دیتی ہے، اس تیز رفتار لفٹ کے لیے خصوصی ایروڈائنامک ڈیزائن، جدید موٹر سسٹم اور دباؤ کو متوازن رکھنے والی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران کسی قسم کی تکلیف محسوس نہ ہو۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اس لفٹ کو دنیا کی تیز ترین لفٹ قرار دیتے ہوئے باضابطہ طور پر ریکارڈ میں شامل کیا ہے، مستقبل میں شہروں میں بلند عمارتوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اس طرح کی تیز رفتار اور محفوظ لفٹس کی مانگ مزید بڑھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیز ترین لفٹ دنیا کی کی تیز
پڑھیں:
ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف
ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔
بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔
پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔