اسلام آباد خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، حملہ آور کے 2 بھائی اور ایک خاتون گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی بھی ملا۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں امام بارگاہ خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، چھاپے کے دوران اس کے دو بھائی اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی بھی ملا۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ خودکش حملہ آور 5 ماہ افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔ پولیس نے پشاور اور نوشہرہ میں حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے، جس میں حملہ آور کے رابطوں اور سہولت کاروں کی جانچ کی جا رہی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران مزید اہم شواہد ملنے کا امکان ہے، جو اسلام آباد میں اس دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر کو واضح کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق شناختی کارڈ حملہ آور کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔