بہاولپور، مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او کے زیرِاہتمام اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
مقررین نے دھماکے کی پرزور مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات سے خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور زخمیوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات دی جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین ضلع بہاولپور اور آئی ایس او بہاولپور کی طرف سے چوک فوارہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے سے ضلعی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین بہاولپور ڈاکٹر نوید محسن چوہان، احسان حیدر صوبائی ممبر آرگنائزر کمیٹی جنوبی پنجاب، کوثر عباس ضلعی صدر آئی ایس او بہاولپور، سید طاہر عباس نائب صدر وحدت یوتھ بہاولپور، احسان اللہ راحت جنرل سیکرٹری انجمن حسینہ معین الواعظین بہاولپور نے خطاب کیا۔ مقررین نے دھماکے کی پرزور مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات سے خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور زخمیوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات دی جائیں۔ آخر میں شہدا کی بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی اور مرکزی قیادت کی کال تک احتجاج ختم کر دیا گیا، اگلا لائحہ عمل مرکزی قیادت کی کال کے بعد بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔