data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KW&SC) کے جینڈر سیل کے زیرِ اہتمام خواتین افسران و ملازمین کے لیے ایک اہم اور تاریخی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد خواتین میں صنفی آگاہی کو فروغ دینا اور ادارے میں محفوظ، مثبت اور امتیاز سے پاک کام کے ماحول کو یقینی بنانا تھا۔ ورکشاپ کا انعقاد ‘‘مساوات، شمولیت اور محفوظ کام کی جگہ’’ کے عنوان سے سال 2026 ء کے تناظر میں کیا گیا۔ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی تھے۔ اس موقع پر سی ایچ آر او نیئر، سی سی او حارث سرفراز، سی آئی ٹی او سادات انور، انچارج جینڈر سیل مریم امجد اور کمیونیکیشن ماہر ماہم مہر بھی موجود تھیں۔ ورکشاپ میں الٰہی بخش بھٹو، تحسین الرحمان، امین تغلق، ساجد نظام، غضنفر علی خان سمیت دیگر افسران اور بڑی تعداد میں خواتین افسران و ملازمین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران شرکاء کو صنفی مساوات، ورک پلیس پر ہراسانی کے خلاف قانون 2010ء، خواتین کے حقوق و فرائض، شکایات کے اندراج کے طریقہ کار، رپورٹنگ میکنزم اور جینڈر سیل کے کردار سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔ ترجمان کے مطابق ورکشاپ کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں ہراسانی سے پاک ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانا اور ادارے میں مؤثر شکایتی نظام سے آگاہ کرنا تھا۔ اس موقع پر شرکت کرنے والی خواتین افسران و ملازمین میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے کہا کہ وہ تمام خواتین افسران و ملازمین کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس ورکشاپ میں بھرپور شرکت کی۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خواتین افسران و ملازمین

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت