اسلام آباد:امام بارگاہ ومسجدمیں خودکش دھماکا، 32افرادجاں بحق، 169 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-01-19
اسلام آباد(خبر ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ کے اندر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 31افراد جاں بحق اور 169 سے زائد زخمی ہوگئے پولیس کے مطابق دھماکا اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کی امام بارگاہ و مسجد خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا، دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے دھماکے میں 31 افراد کے شہید ہونے اور 160 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکا جمعے کی نماز میں دوسری رکعت کے دوران اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، خود کش حملہ آور نے اسی دوران خود کو مرکزی دروازے پر اڑا لیا۔آئی جی اسلام آباد نے میڈیا کو بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوا جو نماز پڑھنے کے لیے 3 منزلہ عمارت میں موجود تھا۔ دھماکے سے امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں اور قریب کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ای ڈی پمز عمران سکندر کے مطابق پمز اسپتال میں 28 ڈیڈ باڈیز منتقل کی گئیں، 105 زخمی پمز اسپتال لائے گئے۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد خون کے عطیات دینے پمز پہنچ گئی، 5 زخمی بے نظیر بھٹو اسپتال لائے گئے،پولی کلینک میں 13 ، فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 اور بے نظیر اسپتال میں بھی 2 زخمی لائے گئے ہیں۔پمز اسپتال میں زخمیوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہونے کے باعث زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتال میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی، پولیس اہلکار اسپتال ایمرجنسی کے باہر اور اندر تعینات ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے متعدد مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔علاوہ ازیںاسلام آباد کی مسجد میں خود کش حملہ کرنے والے بمبار کی شناخت ہو گئی۔حکومتی ذرائع کے مطابق خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشتگرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔حکومتی ذرائع نے بتایاکہ افغانستان میں موجود مختلف دہشتگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کیلیے خطرہ ہیں، پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کی شناخت نادرا کے ریکارڈ سے کی گئی، خود کش حملہ آور کا تعلق پشاور سے اور عمر 32سال ہے۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی اداروں اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد حاصل کرلیے۔ دھماکا کس وقت ہوا اور لوگوں کی تعداد کتنی تھی، تمام معلومات رپورٹ میں شامل ہے۔رپورٹ میں زخمیوں اور جاں بحق افراد کی تعداد بھی شامل ہے، ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دھماکا خودکش لگتا ہے۔وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اس حملے کو کرنے والے بھی ہمارے ہمسائیوں کے اسپنسرڈ ہیں، یہ واقعہ ایک بج کر 42 منٹ پر اسلام آباد انتظامیہ کے نوٹس میں آیا اور اب تک کی اکٹھی کی گئیں معلومات کے مطابق 31 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔طلال چودھری نے کہا کہ جس دہشت گرد نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، وہ افغانستان کا شہری تو نہیں لیکن کتنی بار اس نے افغانستان کا سفر کیا ہے اس کی تفصیل آ گئی ہے۔وزیرمملکت داخلہ نے دعویٰ کیا کہ یہ بی ایل اے کی دہشت گردی ہے، یہ دہشت گرد بزدلی کی آخری حدوں کو چھو گئے ہیں، یہ سافٹ ٹارگٹس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت بار بتایا ہے کہ یہ ہندوستان کے اسپانسرڈ ہیں، بھارت نے تین گناہ انوسمنٹ بڑھائی ہے، یہ لوگ ڈالرز کے لیے دہشت گردی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو ہم نے بہت بار بتایا ہے کہ آپ ہمسائے ہیں آپ پر ہمارے بہت احسانات ہیں۔حملہ آور کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ابھی ان کے پچھلوں تک پہنچا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے 72 گھنٹے کے اندر اندر ہم اس کو انجام تک پہنچا دیں۔وزیرمملکت داخلہ نے بتایا کہ اب کوئی بھی افغان شہری غیرقانونی طور پر پاکستان میں نہیں رہے گا۔ دریں اثنا خودکش حملہ آور سے مبینہ تعلق پر 4ملزمان کو پشاور سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔علاوہ ازیںصدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبر جمیل کی دعا کی۔صدرِ مملکت نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جبکہ اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔ وزیر اعظم نے شہداء کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کیلیے صبر کی دعا کی۔وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم ے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شر پسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔قبل ازیںوزیر داخلہ محسن نقوی امام بارگاہ گئے اور وہاں کا دورہ کیا، تفصیلات حاصل کیں، میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہوگئے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر کے مطابق پمز اسپتال میں لائی گئی 28 میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔دریں اثناء اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے کے بعد راولپنڈی میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ مساجد و امام بارگاہوں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی جبکہ مساجد و امام بارگاہوں کے باہر تجاوزات فوری ختم کرنے کا حکم دے دیا۔پولیس نے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی، کینٹ میں مسیحی برداری عبادات گاہوں پر بھی اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی۔ترجمان وزارت صحت کے مطابق وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری انتظامات کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔مصطفی کمال کے مطابق ڈاکٹرز نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ ادھرسربراہ مجلس وحدت المسلمین علامہ راجا ناصر عباس نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے افسوسناک دھماکے اور بے گناہ نمازیوں کی شہادت پر میں دلی طور پر نہایت غمزدہ اور رنجیدہ ہوں۔راجا ناصرعباس نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کی دہشت گردانہ کارروائی نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں سنگین ناکامی کا ثبوت ہے۔جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ 25 ایمرجنسی ایمبولینسز اسلام آباد روانہ کردی گئی ہیں جبکہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے تمام اسپتال ہائی الرٹ پر ہیں۔مریم نواز نے کہاکہ اسپتالوں میں سرجیکل ٹیمز مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ بلڈ بینکس اور آپریشن تھیٹرز میں زخمیوں کو ہر طرح کی طبی سہولت فراہم کرنے انتظامات مکمل ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے مطابق کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد خودکش حملے پر ردعمل میں کہا ہے کہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔اپنی ٹوئٹ میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن کے دشمن ہیں، حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اورطالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ سکیورٹی گارڈز نے حملہ آورکو چیلنج کیا جس کے جواب میں اس نے فائرنگ کی، خودکش حملہ آور نے نمازیوں کی آخری قطار میں اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔وزیر دفاع کا کہناتھاکہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت عبرت ناک شکست کے بعد اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے، بھارت کی اب براہ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں۔جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایجنسیوں کی ناکامی قرار دے دیا۔اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد دھماکا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، حملہ آور انسانیت کے دشمن ہیں جو کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلیے دعا گو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد اب اسلام آباد میں بھی مسلسل دہشت گرد کارروائیاں ہورہی ہیں، ملک کا کوئی حصہ دہشت گردوں سے محفوظ نہیں، ان بدترین حالات میں اداروں کا اپنی کارکردگی پر فخر سوالیہ نشان ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے سیاسی مداخلت سے فارغ ہوں تو امن وامان اور عوام کی جان ومال کے تحفظ پر توجہ دیں۔ درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہوتے اسلام آباد میں محترم دن کو خون آلود کردیا گیا، یہ حملہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے کے بعد حکومت سے واقعے کی فوری شفاف تحقیقات اور مجرموں سمیت سہولت کاروں کو قانون کی گرفتار میں لانے سمیت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کردیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، دین اور قومی ضمیر پر حملہ ہے۔علاوہ ازیںعالمی برادری نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ایرانی سفیررضا امیری مقدم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پراپنے بیان میں کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں،حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں،زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ برطانیہ اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کی جانب سے حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے معصوم جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس اورمتاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،برطانوی ہائی کمیشن نے کہا کہ ایسی پرتشدد کارروائیاں ناقابلِ قبول اور قابلِ نفرت ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کا اسلام ا?باد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امام بارگاہ میں ہونے والے ہولناک حملے سے شدید صدمہ اور افسوس ہوا۔ٹموتھی کین نے کہا کہ میری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں، مشکل گھڑی میں آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور سوگ میں شریک ہے۔امریکا کی جانب سے بھی اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی گئی ،امریکا نے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کی۔امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کیخلاف دہشت گردی ناقابل قبول ہے،امن و سلامتی کیلیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔سعودی عرب نے اسلام آباد میں مسجد پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ،سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے اور بیگناہ افراد کے قتل کی مذمت کرتاہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔متحدہ عرب امارات نے دھماکے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہونے پر اظہار افسوس کیا، وزارتِ خارجہ یو اے ای نے کہا کہ مجرمانہ کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔روس نے بھی اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کی، دھماکے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کیخلاف دہشتگردی ناقابل قبول ہے، امن و سلامتی کیلیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔چین نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا،ترجمان چینی سفارتخانہ نے کہا کہ جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلیے دعا گو ہیں۔ترکیے نے بھی دھماکے میں شہداکے لواحقین اور حکومت پاکستان سے اظہار افسوس کیا ، دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کی دعا کی،ترکیے نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔سویڈن کے سفیر کا کہنا تھا کہ حملے کی ہولناک خبر سن کر دل دہل گیا، ہماری دعائیں شہدا، زخمیوں اور انکے اہلخانہ کیساتھ ہیں۔سفیر یورپی یونین نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کی تمام اقسام کی مذمت کرتے ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دھماکے کی مذمت کی۔ترجمان افغان وزارت خارجہ عبدالقہار بلخی کی جانب سے مذمت بیان جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسجد میں جمعہ کے نماز کے دوران ہونے والے دھماکے، اِس کے نتیجے میں متعدد نمازی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔اْن کا کہنا تھا کہ اِس طرح کے حملے جو مقدس شعائر اور مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، ایسے حملے جو عبادت گزاروں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ افسوسناک ہیں۔عبدالقہار بلخی نے کہا کہ امارتِ اسلامیہ افغانستان اِس نوعیت کے حملوں کو اسلامی اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
اسلام آباد: امام بارگاہ ومسجد خدیجۃ الکبریٰ میںنماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے بعد احاطے میں نمازیوںکی لاشیں پڑی ہوئی ہیں جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہاہے آخری تصویر میں سیکورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں پاکستان کے ساتھ زخمیوں کی جلد صحت وفاقی دارالحکومت امام بارگاہ میں انہوں نے کہا کہ اسلام ا باد میں ذرائع کے مطابق مذمت کرتے ہوئے الفاظ میں مذمت دھماکے کی مذمت نے اسلام ا باد اسلام ا باد کی کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں ہونے والے امام بارگاہ افغانستان کا اسپتالوں میں افراد کے اہل حملہ ا ور نے عبادت گاہوں کش حملہ ا ور کی ہدایت کی خود کش حملہ میں دھماکے فراہم کرنے کے اہلخانہ پمز اسپتال اسپتال میں دھماکے میں کے کی مذمت کی جانب سے زخمیوں کو دھماکے کے کش دھماکے کی دعا کی بتایا کہ اور زخمی ساتھ ہیں سے اظہار کا اظہار کے دوران کو نشانہ لائے گئے سے تعزیت کرتے ہیں کہ مسجد مذمت کی حملے کی کی شدید کے خلاف گئی ہیں کے بعد کے میں کی گئی
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔