چیف جسٹس کو پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی یادداشت پیش
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-11
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے لیے رجسٹرار عدالت عظمیٰ کو پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی یادداشت پیش کردی گئی۔یادداشت کے متن میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی پمز میں خفیہ اور عجلت میں طبی عمل کی خبریں سامنے آئیں، حکومت نے 5 دن تک رپورٹس کی تردید کے بعد تسلیم کیا۔اِس طرح جیل قوانین کے برخلاف بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو طبی صورتِ حال سے لاعلم رکھا گیا، بشریٰ بی بی کو 4 نومبر 2025ء کے بعد پہلی بار ملاقات کی اجازت دی گئی، بشریٰ بی بی نے ملاقات میں انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی 2 ہفتے تک مسلسل آنکھ میں تکلیف کی شکایت کرتے رہے، چیک اپ نہیں کرایا گیا۔جب بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی تکلیف میں بہت زیادہ شدت آئی تب پمز کے ڈاکٹر نے اْن کا معائنہ کیا۔پمز کے ڈاکٹر نے رائے دی کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری علاج کے لیے اسپتال داخلے کی ہدایت دی، پمز کے ڈاکٹر کی رائے پر بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے اسپتال لایا گیا،ذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سیکڑوں اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے باہر پہنچے، سلمان اکرم راجا کی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات ہوئی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے بات کرنے کے بعد طبی رپورٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود طبی رپورٹس اہلِ خانہ کو فراہم نہ ہوئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی چیف جسٹس
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔