پاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی،صدرعالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر عالمی بینک اجے بنگا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اگلے 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، پاکستان میں ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں ضروری ہیں۔ عالمی بینک کے صدر اجیبنگا نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ نوجوان آبادی کو روزگار نہ ملا تو بے روزگاری، بدامنی اور ہجرت بڑھے گی‘ عالمی بینک پاکستان کے ساتھ سالانہ 4 ارب ڈالر کی شراکت داری کرے گا۔صدر عالمی بینک نے کہا کہ نوکریوں کا 90 فیصد حصہ نجی شعبہ پیدا کرتا ہے‘ زراعت سے ایک تہائی روزگار پیدا ہو سکتا ہے‘ بجلی کا شعبہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اس میں اصلاحات کی فوری ضرورت ہے‘ بجلی کے نقصانات معیشت اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سولر توانائی فائدہ مند مگر نظام کی بہتری بھی ضروری ہے‘ صحت، انفرا اسٹرکچر، سیاحت، زراعت میں زیادہ روزگارکے مواقع ہیں‘ ماحولیاتی تحفظ کو ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنانا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی بینک
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔