عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر
معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری لیبارٹری ٹیسٹس اور ریٹینا کا آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی شامل تھا،طبی عمل 20 منٹ میں کامیابی سے مکمل ہوا،ذرائع
پمز اسپتال اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی تازہ میڈیکل رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی تشخیص کی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق ان کے اہل خانہ کو رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی جانب سے جاری بانی پی ٹی آئی کی طبی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 74 سالہ عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری لیبارٹری ٹیسٹس اور ریٹینا کا آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی شامل تھا اور ابتدائی معائنے کی بنیاد پر دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص کی گئی اور اسپتال میں فالو اَپ علاج تجویز کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب تجویز کردہ طریقہ علاج کے لیے پمز منتقل کیا گیا، اسپتال میں عمران خان کو دوا کے انجیکشن کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کیا گیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج سے قبل مریض سے رضامندی لی گئی اور بانی چیٔرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کا کامیاب طبی علاج کیا گیا۔پمز کی انتظامیہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے تفصیلی میڈیکل رپورٹ اڈیالہ جیل حکام کو بھجوا دی۔انتظامیہ کے مطابق عمران خان کی مجموعی صحت تسلی بخش ہے تاہم پمز اسلام آباد کے ماہرین کے تفصیلی معائنے میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں بینائی متاثر ہونے کی تشخیص کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق طبی معائنے کے بعد عمران خان میں رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کو علاج کے لیے رات گئے پمز منتقل کیا گیا، پمز میں عمران خان کو اینٹی وی جی ای ایف انٹرا ویٹریل انجیکشن دے کر علاج معیاری پروٹوکول کے تحت آپریشن تھیٹر میں انجام دیا گیا اور طبی عمل تقریباً 20 منٹ میں کامیابی سے مکمل ہوا اور حالت مستحکم رہی ہے۔پمز کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو علاج کے بعد فالو اپ ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ طبی رپورٹ عمران خان کے اہل خانہ کو موصول ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: رپورٹ میں بتایا گیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر دائیں ا نکھ میں عمران خان کو عمران خان کی کی تشخیص کی اسلام ا باد کے مطابق کیا گیا پمز کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔