سینیٹ میں کشمیر، بلوچستان، سیکورٹی صورتحال اور عمران خان پر بحث
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کشمیر، بلوچستان، سیکورٹی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق بحث ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔ قرارداد کے متن کے مطابق ایوان بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتا ہے، کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بلوچستان میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب میں بسنت منانے پر تنقید کی۔ جس پر طلال چودھری نے جواب دیا کہ دہشتگرد یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں معمول کی زندگی نہ ہو۔ پنجابی اپنے وطن سے زیادہ بلوچستان سے محبت کرتے ہیں۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ ایوان میں مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں بلوچ اور پختون اتحاد پر زور دیا۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک انسان اور قیدی ہیں جنہیں قانونی حقوق اور علاج کی سہولیات نہیں دی جا رہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا 4 رکنی وفد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے جس میں 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن اراکین شامل ہوں۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ مسائل ہیں۔ ملک میں عدل کا نظام ختم ہوچکا ہے۔ اس موقع پر رانا ثناء اللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں۔ بہتر انداز میں بات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایوان میں پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے اضافی فیسوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز معیارات پر پورا نہیں اترے اور 25 سے 30 لاکھ روپے فیس وصول کر رہے ہیں جب کہ آغا خان میڈیکل کالج لگ بھگ ایک کروڑ روپے فیس لے رہا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ہر میڈیکل کالج بچوں کو لوٹ رہا ہے۔ وزیر مملکت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی فیس کا بینچ مارک 18 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں پریزائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ ایوان میں قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012 کے قاعدہ 166 کے ذیلی قاعدہ 5 میں مجوزہ ترمیم کی قرارداد پیش کی گئی۔ یہ قرارداد سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر سلیم مانڈی والا، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر پلوشہ اور دیگر کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس موقع پر حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی جبکہ رانا ثناء اللہ نے بل پر کارروائی روکنے اور ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ بل پہلے ہی مہینوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ بعد ازاں انہوں نے بل پر رائے شماری کرائی اور ایوان نے اکثریتی رائے سے بل منظور کر لیا۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔