data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کشمیر، بلوچستان، سیکورٹی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق بحث ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔ قرارداد کے متن کے مطابق ایوان بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتا ہے، کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بلوچستان میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب میں بسنت منانے پر تنقید کی۔ جس پر طلال چودھری نے جواب دیا کہ دہشتگرد یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں معمول کی زندگی نہ ہو۔ پنجابی اپنے وطن سے زیادہ بلوچستان سے محبت کرتے ہیں۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ ایوان میں مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں بلوچ اور پختون اتحاد پر زور دیا۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک انسان اور قیدی ہیں جنہیں قانونی حقوق اور علاج کی سہولیات نہیں دی جا رہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا 4 رکنی وفد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے جس میں 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن اراکین شامل ہوں۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ مسائل ہیں۔ ملک میں عدل کا نظام ختم ہوچکا ہے۔ اس موقع پر رانا ثناء اللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں۔ بہتر انداز میں بات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایوان میں پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے اضافی فیسوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز معیارات پر پورا نہیں اترے اور 25 سے 30 لاکھ روپے فیس وصول کر رہے ہیں جب کہ آغا خان میڈیکل کالج لگ بھگ ایک کروڑ روپے فیس لے رہا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ہر میڈیکل کالج بچوں کو لوٹ رہا ہے۔ وزیر مملکت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی فیس کا بینچ مارک 18 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں پریزائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ ایوان میں قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012 کے قاعدہ 166 کے ذیلی قاعدہ 5 میں مجوزہ ترمیم کی قرارداد پیش کی گئی۔ یہ قرارداد سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر سلیم مانڈی والا، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر پلوشہ اور دیگر کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس موقع پر حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی جبکہ رانا ثناء اللہ نے بل پر کارروائی روکنے اور ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ بل پہلے ہی مہینوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ بعد ازاں انہوں نے بل پر رائے شماری کرائی اور ایوان نے اکثریتی رائے سے بل منظور کر لیا۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی