Jasarat News:
2026-07-24@01:59:33 GMT

کشمیر… کیا محض زبانی اظہار یکجہتی کافی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت جس محاذ پر اور جس زبان میں بات کرے گا، اسی میں جواب ملے گا۔ اس کی پراکسیز کا بھی وہی حشر کریں گے جو اس کے لڑاکا طیاروں کا کیا۔ دنیا کو بتا دیا کہ کشمیر نہ بھارت کا حصہ تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا۔ ان جذبات کا اظہار وزیر اعظم نے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت، حریت رہنما اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے سید علی گیلانی، برہان الدین وانی، آسیہ اندرابی، یٰسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام کشمیری رہنمائوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جدوجہد آزادی اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ان کی قربانیوں اور خون سے کشمیر کی دھرتی سرخ ہے اور بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، یہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ تنازع کشمیر کا پائیدار حل صرف اور صرف کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل سے ہی ممکن ہے، اس کے سوا بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں، پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق ملنے تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کو قربان کر سکتے ہیں لیکن اپنی آزادی قربان کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیر کی آزادی پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا اور اسے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہماری مسلح افواج نے ایسا سبق سکھایا جو اس کی نسلیں بھی کبھی بھول نہ پائیں گی، معرکہ حق صرف ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی فتح نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کی قربانیوں کی بھی فتح ہے۔ معرکہ حق کے بعد کشمیر کاز پوری دنیا میں پوری قوت سے زندہ ہوا، بھارت کا جھوٹ کا بیانیہ دفن ہونا ہماری سفارتی کامیابی ہے۔ بھارت نے ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دوبارہ دہشت گردی تیز کر دی ہے، بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ عزائم کو ترک کیے جانے تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکورٹی فورسز بھارت کی دہشت گردی میں ملوث پراکسیز کا بھی وہی حشر کریں گی جو اس کے لڑاکا طیاروں کا ہوا، امن چاہتے ہیں لیکن برابری اور انصاف کی بنیاد پر، بھارت جو محاذ کھولے گا اور جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب ملے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر و فلسطین کے عوام کو ان کی مرضی سے جینے کا حق ملنا دنیا کی جمہوریت پسندی اور انصاف پسندی کا امتحان ہے، بین الاقوامی قوانین اور اصول اس حق کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر آزاد کشمیر کے عوام اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے تعمیر و ترقی کے بہت سے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ دریں اثنا ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کا دورہ کیا انہوں نے شہدائے جموں و کشمیر کی یاد گار پر حاضری دی اور شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معززین اور سابق فوجیوں سے ملاقات کی، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں جرأت، عزم اور بے لوث جدوجہد کی روشن مثال ہیں، شہدا کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ پاکستان سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق منصفانہ حل تک مسئلہ کشمیر اجاگر کرتا رہے گا، مقبوضہ وادی کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جلد آزادی کی صبح دیکھے گی جو اہل کشمیر کی اجتماعی خواہش اور مقدر ہے، پاکستان عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ بھر پور طریقے سے اٹھاتا رہے گا۔ فیلڈ مارشل نے مشکل آپریشنل حالات کے باوجود کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کی تعریف کی، جوانوں کی غیر متزلزل وابستگی، بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ریاستی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کشمیریوں کے حوصلے نہیں توڑ سکی، ہندو توا پر مبنی پالیسیوں کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد عاصم منیر نے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر آزاد کشمیر جا کر جس طرح کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی سے وابستگی کا اظہار کیا اور وہاں جن خیالات کا اظہار کیا وہ یقینا پاکستان کے عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا کشمیری عوام کی تحریک آزادی سے پاکستان کے اہم ترین رہنمائوں کا محض زبانی اظہار یکجہتی کر دینا کافی ہے؟ جیسا کہ وزیر اعظم نے بانی پاکستان کے حوالے سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا مگر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا کوئی ملک یہ برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی شہ رگ 78 برس تک اس حال میں دشمن کے قبضہ میں رہے کہ اس سے مسلسل لہو بہہ رہا ہو اور دشمن ہر لمحہ اسے اذیت ناک طریقے سے زخم پہ زخم لگا رہا ہو۔ اس کی آٹھ لاکھ فوج نے وہاں کے باشندوں کا جینا محال بنا رکھا ہو۔ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تحریک حریت کشمیر کے خلاف گھیرا تنگ کرتا چلا جا رہا ہے۔ پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعات 370 اور -35 اے منسو خ کر کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت پر کاری ضرب لگائی مگر پاکستانی حکومت نے اس پر زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر کوئی ٹھوس عملی اقدام نہیں کیا۔ جناب وزیر اعظم کم و بیش گزشتہ چار برس سے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں مگر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے تقریروں سے بڑھ کر کون سا عملی اقدام تحریک حریت کشمیر کو تقویت پہنچانے کے لیے کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ’معرکہ حق‘ میں وطن عزیز کی شاندار کامیابی کا ذکر کیا مگر سوال یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنی اس فتح کو اپنی شہ رگ کو دشمن کے پنجہ سے آزاد کرانے کے لیے کس قدر موثر طور پر استعمال کیا۔ شہ رگ کو دشمن کے پنجے سے آزاد کرانے کے لیے کس قدر موثر طور پر استعمال کیا۔ مسئلہ کشمیر سال ہا سال سے اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کی حیثیت سے معلق چلا آ رہا ہے مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ کشمیریوں کے وکیل اور مسئلہ کے ایک اہم فریق کی حیثیت سے پاکستان نے ایک طویل عرصہ سے اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کی جانب کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کی۔ یادش بخیر! قومی اسمبلی کی ایک ’کشمیر کمیٹی‘ کبھی عالمی سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے بہت متحرک ہوا کرتی تھی مگر اب ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر بھی اس کمیٹی کے وجود میں کوئی حرکت محسوس نہیں کی۔ اس صورت حال میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے یہ لمحہ فکر ہونا چاہیے کہ ہم کب تک اپنی شہ رگ کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑے رہیں گے؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کی پاکستان کی پاکستان نے فیلڈ مارشل مسلح افواج کے موقع پر بھارت کا کشمیر کے انہوں نے کہ کشمیر معرکہ حق کشمیر کی کے عوام دشمن کے کہا کہ کے لیے نے کہا

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار