ڈاکٹر، مریض ابلاغ اور مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-03-7
ایک خبر کے مطابق صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے لیے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کا وقت اور ان کی دیکھ بھال ڈاکٹروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے لہٰذا اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مریم نواز کے اس فیصلے پر گو کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اچھا ردعمل نہیں آ رہا ہے تاہم عوام کی ایک تعداد اس فیصلے کو خوش آئند بھی قرار دے رہی ہے۔ منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ کافی حد تک بہتر ہے کیونکہ جب دوران ڈرائیونگ فون کے استعمال پر اس لیے پابندی ہوتی ہے کہ کہیں ذرا سا دھیان اِدھر، اُدھر ہونے سے کوئی حادثہ نہ ہو جائے، کسی کا جانی نقصان نہ ہو جائے تو اس تناظر میں ایمرجنسی وارڈ وغیرہ میں بھی مریضوں کی زندگی کا معاملہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔ بہر کیف اب موبائل فون ہم سب کی زندگی میں آکسیجن کی طرح اہمیت اختیار کرچکا ہے کہ ہم اس کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں گزار سکتے۔ اس کا استعمال ڈاکٹر اور مریض کے تبادلہ خیال (کمیونیکشن) میں بھی اکثر منفی ماحول پیدا کرتا ہے۔
ماضی میں جب یہ جدید موبائل نہیں تھا تب بھی مریضوں کو یہ عام شکایت تھی کہ ڈاکٹر حضرات اپنے مریضوں سے اس کی کیفیت بھی پوری طرح نہیں سنتے، فی مریض بمشکل ایک آدھ منٹ ہی وقت دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے سب سے پہلے یہی بات کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر صاحب آپ بیشک مجھ سے ڈبل فیس لے لیں، لیکن تھوڑا وقت دے دیں تاکہ میں اپنی کیفیت تفصیل کے ساتھ آپ کو بتا سکوں‘۔ اسی حوالے سے میرے بچپن کی یادیں ہیں کہ میں جب بھی ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا تو ایک عجیب معاملہ دیکھتا تھا۔ ہمارے محلے کے یہ ڈاکٹر صاحب ہر آنے والے کے منہ میں فوراً ایک تھرما میٹر ڈال دیتے اور اس کے بعد مریض سے سوال کرنا شروع کر دیتے، ’’یہ بتائیے آپ کے سر میں درد ہو رہا ہے؟ یہ بتائیے آپ کو سردی لگ رہی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب نے (جب ہم بیمار ہو کے ان کے پاس پہنچے تو ) یہی معاملہ ہمارے ساتھ کیا ہم چونکہ بچے تھے، چھوٹے تھے لہٰذا فوراً بول پڑے اور ان کا تھرما میٹر نیچے گر گیا، ڈاکٹر صاحب عجیب نظروں سے ہمیں گھورنے لگے۔
ڈاکٹر اور مریض کا ابلاغ یعنی بات چیت ایک عجیب ہی معاملہ ہے آج کل کے جدید ڈاکٹر تو کچھ نرالے ہی ہیں پہلے ان کا اسسٹنٹ مریض کو دیکھتا ہے، اچھی طرح سے پوری ہسٹری پوچھتا ہے، ایک فائل پر لکھ دیتا ہے پھر مزید سوالات کرتا ہے اور وہ بھی نوٹ کرتا جاتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کا انتظار کرنے کو کہتا ہے ڈاکٹر اپنے کیبنٹ میں کسی اور مریض کو دیکھ رہا ہوتا ہے، آنے والے مریض کو کسی برابر والے کیبنٹ میں بٹھا دیا جاتا ہے اور جب ڈاکٹر صاحب اپنے پہلے مریض سے فارغ ہوتے ہیں تو خود چل کر اگلے مریض کے کیبنٹ میں آجاتے ہیں اور پھر فائل پڑھتے رہتے ہیں اور فائل پڑھنے کے بعد بمشکل کوئی ایک سوال مریض سے پوچھتے ہیں اور پھر دوائی لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ دوائی استعمال کر لیجیے گا، اب مریض کو دوا کے استعمال کی تفصیل معلوم کرنی ہو یا کچھ اور بات کرنی ہو، یہ ڈاکٹر صاحب فوراً ہی برابر والے دوسرے کیبن میں اگلے مریض کو دیکھنے چلے جاتے ہیں اور پہلامریض منہ تکتا رہ جاتا ہے کہ وہ دل میں کیا کیا سوچ کر بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر سے فلاں فلاں باتیں پوچھنی ہے۔ اب اگر کسی مریض کو اپنے اس قسم کے تمام باتوں کے جوابات چاہیے ہوں تو اس کے لیے ان ڈاکٹر کا کوئی اسسٹنٹ موجود ہوتا ہے جو مریض کو تمام سوالوں کے جوابات دیتا ہے مگر مریض کا شکوہ یہی ہوتا ہے کہ میں نے تو جس ڈاکٹر کے لیے اتنی بڑی فیس دی اور کئی ہفتوں یا مہینوں پہلے اپائنمنٹ لیا، میرے سوالوں کا جواب تو اس ڈاکٹر کو ہی دینا چاہیے۔
سرکاری اسپتال میں تو ڈاکٹر مریض کو بہت ہی کم ٹائم دیتے ہیں جس کی ایک وجہ تو وہاں کا رش ہے لیکن یہاں جب مریض سامنے اپنی کیفیت بتانا شروع کرتا ہے تو اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر پرچی لکھ کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے کہ جاؤ۔ کہتے ہیں کہ مریض کے بات سننے سے ہی آدھا مرض دور ہو جاتا ہے مگر ہمارے ہاں تو ڈاکٹر مریض کو سننا ہی پسند نہیں کرتا۔ ڈاکٹر کا مریض کو مناسب ٹائم نہ دینا اور اس کی بات پوری طرح سے نہ سننا آج کے دور کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ جب ڈاکٹر اور مریض کا کمیونیکیشن ہی (یعنی تبادلہ خیال ہی) درست نہ ہو تو ڈاکٹر کی دی گئی دوائی کیسے درست ہو سکتی ہے اور مریض کیسے بیماری سے نجات حاصل کر سکتا ہے؟ عموماً تو مریض کو یہ تفصیل بتا ئی نہیں جاتی کہ آپ نے دوائی کب کب اور کیسے کھانی ہے، عمو ماً مریض میڈیکل اسٹور والے سے پوچھ کے الٹی سیدھی ٹائمنگ سے دوا کھا لیتا ہے۔ بہر کیف مریض اور ڈاکٹر کے مابین ابلاغ (تبادلہ خیال) کے پہلے ہی بڑے مسائل موجود تھے، جدید موبائل جب سے زندگی کا لازمی حصہ بنا ہے مذید مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ راقم کے خیال میں اس جدید ٹیکنالوجی سے ان مسائل کو کم کرنے میں مدد بھی لی جا سکتی ہے مثلاً کوئی بھی ڈاکٹر اپنے موبائل پر اے آئی ایپ پر صر ف یہ سوال لکھے کہ ’ڈاکٹرز اور مریضوں کے درمیان ابلاغ (کمیونیکشن) کے مسائل کیا ہیں؟‘ تو جواب میں چند اہم ترین مسائل جو سامنے آئیں گے وہ یہ ہوں گے۔ 1۔ زبان اور اصطلاحات کا فرق، 2۔ وقت کی کمی، 3۔اعتماد کی کمی، 4۔ سماجی اور تعلیمی فرق 5۔ جذباتی پہلوں کو نظر انداز کرنا۔
ویسے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، محض ’کامن سنس‘ کی بات ہے۔ جیسے ڈاکٹر کے مقابلے میں ایک عام شخص میڈیکل کی اصطلاح نہیں سمجھ سکتا خاص کر جب کوئی پیچیدہ بیماری کا معاملہ ہو، لہٰذا ایسے میں ڈاکٹر کی ذمے داری ہے کہ وہ عام اور آسان زبان میں اچھی طرح مریض کو اپنی بات سمجھائے اس میں بمشکل چندمنٹ لگ سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کی بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ایک مریض کو کم از کم اتنا تو وقت دیا جائے کہ وہ اپنی مکمل کیفیت ڈاکٹر کو بیان کر سکے، اگر ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا تو پھر سارا پروسس ہی بیکار ہو جائے گا، مریض کو شفاء کیسے ملے گی؟ سماجی اور تعلیمی فرق بھی مریض اور ڈاکٹر کی باہمی گفتگو سمجھنے میں مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ بات ڈاکٹر حضرات کو ضرور سمجھ نی چاہیے۔ ان سب مسائل میں ایک اہم ترین مسئلہ جذباتی پہلو کا بھی ہوتا ہے اور یہ خصوصاً بزرگوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ بزرگ مریضوں کو ڈاکٹر کی دوا سے زیادہ ڈاکٹر کی توجہ اور شفقت بھرے لہجے کی ہوتی ہے۔ اگر بزرگ مریضوں سے ڈاکٹر حضرات اچھی طرح پیش آئیں، ان کی باتیں سکون سے سنیں تو ان کا یہ طرز عمل ہی بزرگ مریضوں کے لیے ایک بہترین دوا ثابت ہوگا۔ دعا ہے کہ میری یہ گزارشات زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کے دل میں گھر کر جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صاحب تو ڈاکٹر ڈاکٹر کی ڈاکٹر کے اور مریض مریض کو ہیں اور سکتی ہے ہوتا ہے جاتا ہے کے لیے کے بعد ہیں کہ ہے اور کی بات
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
ویب ڈیسک :آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں دو روز باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آج میرپور کے قائداعظم سٹیڈیم میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے میں میاں نواز شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی دیگر مرکزی و مقامی قیادت بھی شریک ہوگی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سٹیج کی تیاری سمیت دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے میں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے، جبکہ جلسے کے لیے مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ آزادکشمیر ڈویژن میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے، جس کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم تیز کیے ہوئے ہیں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ