وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
گزشتہ کچھ دنوں میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سرگرمیوں اور بیانات نے سیاسی حلقوں میں ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پارٹی کے سخت بیانیے اور نوجوان کارکنوں کے درمیان مقبول رہنے والے سہیل آفریدی اب مقتدر حلقوں کے قریب ہو گئے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا
سہیل آفریدی کی حالیہ ملاقاتیں، پرو اسٹیبلشمنٹ بیانات اور صوبائی اپیکس کمیٹی کی سربراہی کے بعد یہ سوال سیاسی مبصرین اور پارٹی کے اندرونی حلقوں میں زور پکڑ رہا ہے۔ ان کے بیانات اور رویے میں پچھلے سخت لہجے کی نسبت نرمی دیکھی جا رہی ہے جسے پارٹی کے دیرینہ ارکان بھی محسوس کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کی پارٹی میں پوزیشن اور بیاناتپی ٹی آئی میں سہیل آفریدی مخالف گروپ کے لوگ ان پر عمران خان کے بیانیے سے ہٹنے کا الزام لگارہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد اور حالیہ رویے میں واضح فرق نظر آتا ہے اور بیانات میں بھی نرمی آ چکی ہے۔
مزید پڑھیے: 70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت
تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کے اندر گروپنگ ہے اور مخالف گروپ جسے بعض لوگ علی امین گنڈاپور گروپ بھی کہتے ہیں سہیل آفریدی پر تنقید کرتا ہے۔
سہیل آفریدی کے ابتدائی بیانات اور حالیہ ملاقاتیںوزیراعلیٰ نامزد ہونے کے بعد سہیل آفریدی کا لہجہ سخت تھا اور انہوں نے مقتدر حلقوں پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات یا ہدایت کے بغیر کسی سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کیا اور صوبے میں جاری آپریشنز کی بھی شدید مخالفت کی۔
تاہم باجوڑ میں جرگے کی ناکامی کے بعد آپریشن ہوا جبکہ تیراہ میں ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں جرگہ کر کے مقامی آبادی کو رضاکارانہ نقل مکانی پر آمادہ کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے متاثرین کی مکمل سپورٹ کا اعلان بھی کیا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کس پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟
گزشتہ ہفتے ضلع خیبر میں جرگے کے دوران انہوں نے قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا اور اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں مالی امور اور امن و امان کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔
اپیکس کمیٹی اجلاس کی سربراہیوزیراعظم سے ملاقات کے بعد سہیل آفریدی نے صوبائی اپیکس کمیٹی اجلاس کی سربراہی کی جس میں کور کمانڈر پشاور بھی شریک تھے۔
اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے فوج اور سول انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ریاست سے افغانستان کے خلاف دہشتگردی کے واقعات میں ثبوت مانگنے والے سہیل آفریدی اس اجلاس میں یکسر مختلف نظر آئے۔ انہوں نے امن کو اولین ترجیح قرار دی اور کہا کہ سول حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔
کیا سہیل آفریدی ’گڈ بوائے‘ بن گئے ہیں؟پاکستان تحریک انصاف کے ایک صوبائی رہنما کے مطابق اداروں کے بغیر حکومت چلانا آسان نہیں اور سہیل آفریدی مقتدر حلقوں کے قریب ہو گئے ہیں۔ تاہم پارٹی میں ابھی ان کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں اور اگر وہ اسی طرح چلتے رہے تو علی امین گنڈاپور کی طرح ان کے خلاف بھی بغاوت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عطا تارڑ کا عمران خان کی صحت اور سہیل آفریدی کے رویے سے متعلق اہم بیان
تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی پہلے ہی ’گڈ بوائے‘ تھے لیکن حکومت چلانے کے لیے یہ رویہ مجبوری بھی ہے۔ سینیئر صحافی فرزانہ علی نے کہا کہ سہیل آفریدی نے نامزدگی کے بعد اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کیا ہے اور اب وہ وفاق اور اداروں کے ساتھ مل کر حکومتی معمولات کو بہتر بنانے میں لگے ہیں۔
نوجوان صحافی محمد فہیم کے مطابق سہیل آفریدی ابتدائی دنوں میں گورننس سے زیادہ واقف نہیں تھے لیکن اب وہ سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں اور عوام کے لیے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں سہیل آفریدی کو اب حکومت کی مکمل سمجھ آ گئی ہے اور کرسی کی فکر بھی لاحق ہو گئی ہے۔
محمد فہیم کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی چاہے 10 بار کہیں کہ انہیں کرسی کی فکر نہیں لیکن حقیقت میں انہیں فکر ہے اور وہ اب عوام کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 100 دنوں کے بعد اب جا کر انہیں اندازہ ہوا ہے کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے اور وفاق کے ساتھ مل کر چلنا کیوں ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟
محمد فہیم نے کہا کہ سہیل آفریدی اب جذبات کے ساتھ ساتھ ہوش کے ساتھ بھی کام کرنا شروع ہو گئے ہیں اور صوبے کو وفاق کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں بہتری آئے اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا بھی اس کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سہیل آفریدی کے پرو اسٹیبلشمنٹ بیانات سہیل آفریدی گڈ بوائے وزیر اعلیٰ خیبر پحتونخوا سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کے پرو اسٹیبلشمنٹ بیانات وزیر اعلی خیبر پحتونخوا سہیل ا فریدی سہیل آفریدی کی سہیل ا فریدی کی سربراہی سے ملاقات نے کہا کہ فریدی کی انہوں نے گڈ بوائے کے مطابق پارٹی کے گئے ہیں کے ساتھ ہیں اور رہے ہیں ہے اور کے بعد کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔