چمن، انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار شہید،دوسر ازخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
چمن(آئی این پی) چمن میں انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور 1 پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ چمن کے علاقے روغانی میں پیش آیا۔واقعے میں ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے جبکہ پولیو ورکرز محفوظ رہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کے مطابق پولیو ٹیم انسداد پولیو مہم میں مصروف تھی کہ موٹرسائیکل پر سوار مسلح دہشتگردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار نظام الدین موقع پر شہید ہوگیا۔پولیو ٹیم گھر کے اندربچوں کوپولیو ویکسین پلانے کے باعث محفوظ رہی،شہید پولیس اہلکارکی لاش ضروری قانونی کارروائی کے لییسول اسپتال چمن منتقل کردی گئی،واقعہ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا،ڈپٹی کمشنر چمن کے مطابق واقعہ کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دئیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار پولیو ٹیم کے بعد
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔