بنگلہ دیش کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتیں، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی  (بی این پی) اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی، نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ حکومت میں آئیں تو ایک ’سچائی اور شفا یابی کمیٹی‘ قائم کریں گی۔ یہ اقدام جنوبی ایشیا میں سابق آمرانہ یا مضبوط حکومتی دور کے بعد کی سیاسی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

دونوں جماعتوں کے انتخابی منشور میں شامل اس منصوبے کا مقصد گزشتہ برسوں میں عوامی لیگ کے طویل دور حکومت میں ہونے والے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا ہے، جن میں جبری گمشدگیاں، غیر قانونی قتل اور سیاسی جبر کے دعوے شامل ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: حسینہ واجد کی حوالگی سے متعلق بھارت نے ابھی تک جواب کوئی نہیں دیا، بنگلہ دیشی مشیر خارجہ

خطے کے منظرنامے میں یہ اقدام اس مسئلے کی عکاسی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں مضبوط ایگزیکٹو حکومت کے بعد انصاف اور سیاسی استحکام کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ سری لنکا، نیپال اور پاکستان میں بھی اسی طرح کے مسائل سامنے آئے ہیں، جہاں انصاف، مفاہمت اور سیاسی اشرافیہ کی جوابدہی پر تنازعات جاری ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، تجویز کردہ کمیٹی متاثرین پر مرکوز انصاف فراہم کرے گی اور ان عوامی لیگ کے کارکنوں کو مشروط طور پر شمولیت کی اجازت دے گی جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں۔ تاہم سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کسی بھی مفاہمتی عمل سے مستثنی ہوں گے۔

یہ منصوبہ جنوبی افریقہ کے بعدِ نسلی علیحدگی کے تجربے سے متاثر ہے، جہاں سچائی اور مفاہمت کی کمیٹی نے ایک قطبی معاشرے میں استحکام پیدا کیا تھا۔ بنگلہ دیش کے پالیسی ساز بھی پہلے اس ماڈل کا مطالعہ کر چکے ہیں، اگرچہ پہلے کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کا انتخاب بھی اہم ہے۔ بنگلہ دیش میں داخلی سیاسی تقسیم نے خطے میں تجارت، مہاجرت اور سیکیورٹی تعاون پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگر بڑی سیاسی جماعت کو طویل عرصے تک خارج رکھا گیا تو یہ عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے اور انتہا پسندی یا بیرونی اثرات کے لیے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

بی این پی اور جماعت اسلامی نے پہلے عبوری حکومت کے تحت کسی بھی مفاہمتی اقدامات کی مخالفت کی تھی، لیکن اب ان کی حمایت انتخابی حقیقتوں اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے نظر آتی ہے، خاص طور پر مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جو جنوبی ایشیا میں جمہوری پسپائی پر تشویش رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اشولیا ہلاکتیں: سابق بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام کو سزائے موت

جماعت اسلامی کے منشور میں اقوام متحدہ سے تکنیکی معاونت کا ذکر بھی ہے، جو خطے میں عبوری انصاف کے فریم ورک میں بیرونی کردار کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور حکومت میں 2,200 سے زیادہ غیر قانونی قتل اور 1,600 سے زائد جبری گمشدگی کے مقدمات درج ہوئے۔ اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے گزشتہ سال کے عوامی احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کی رپورٹ بھی دی، جس سے جوابدہی کے مطالبات میں شدت آئی ہے۔

قانونی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ سچائی کمیٹیاں بغیر مضبوط سیاسی اتفاق رائے اور عدالتی آزادی کے کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ بنگلہ دیش میں پہلے بھی 2007–08 کے عبوری دور حکومت کے دوران مختصر سچائی کمیٹی قائم ہوئی تھی، جو بعد میں عدالتوں نے کالعدم قرار دی۔

خطے کے مبصرین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا بنگلہ دیش کی اپوزیشن منشور میں کیے گئے وعدوں کو قابلِ عمل عبوری انصاف کے نظام میں تبدیل کر پائے گی یا یہ صرف انتخابی نعرہ ہی رہ جائے گا۔ اس کے نتائج جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم مثال قائم کر سکتے ہیں کہ وہ کس طرح ماضی کے سیاسی جبر کے اثرات کو انصاف اور استحکام کے درمیان توازن کے ساتھ حل کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتساب بنگلہ دیش حسینہ واجد ڈھاکا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش حسینہ واجد ڈھاکا جنوبی ایشیا بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف