دہشت گردی میں ملوث عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے غیر ملکی سرپرستی کارفرما ہے اور دشمن قوتیں ملک کے امن، استحکام اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، تاہم قوم پوری یکجہتی کے ساتھ ان سازشوں کا مقابلہ کرے گی اور دہشت گرد عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں واقع مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی اور حالیہ خودکش حملے کے مقام پر پہنچ کر موقع کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اسلام آباد میں مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ معصوم نمازیوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ اور سفاکانہ فعل ہے، جو دشمن کی ذہنی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دلخراش خودکش حملے میں ملوث دہشت گردوں کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور کسی کو بھی معافی نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر ذمہ دار عناصر تک پہنچیں گے۔
وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقات کو ہر ممکن زاویے سے آگے بڑھایا جائے تاکہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔
طلال چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہناک واقعے میں شہید ہونے والوں میں آئی جی اسلام آباد کے قریبی عزیز بھی شامل ہیں، جو اس سانحے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں ہمسایہ ملک کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں، مگر اس کے باوجود دشمن اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آ رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد آسان اور نرم اہداف کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم وہ اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
وفاقی وزرا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور سیکیورٹی ادارے مکمل چوکس ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔