ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر بھارتی اپوزیشن نے نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد بھارتی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اس معاملے نے بھارتی پارلیمنٹ میں بھی ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے فوری اور واضح جواب کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر پارلیمنٹ کے ایوانوں میں شور شرابا دیکھنے میں آیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم پر لگنے والے سنگین الزامات کا جواب دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر بھارتی وزیرِ اعظم کا نام عالمی سطح کے جنسی اسکینڈل میں لیا جا رہا ہے تو قوم کو سچ جاننے کا حق ہے۔
کانگریس کی سینئر رہنما پرینکا گاندھی نے بھی مودی اور ایپسٹین کے ممکنہ روابط پر سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدنام زمانہ جنسی مجرم سے بھارتی وزیرِ اعظم کے روابط کی نوعیت واضح ہونی چاہیے اور یہ بتایا جانا چاہیے کہ ایسے شخص سے رابطہ کس مقصد کے لیے تھا۔
کانگریس کے رہنما پون کھیرہ نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کی تحریروں میں مودی کے بارے میں غیر معمولی باتیں درج ہیں اور اس حوالے سے کئی پہلو تشویشناک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے پر وضاحت کرے اور حقائق عوام کے سامنے لائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام آنا بھارتی سیاست میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت وضاحت نہ کی تو یہ معاملہ نہ صرف اندرونِ ملک سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت پر دباؤ بڑھائیں گی تاکہ ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والے الزامات کی مکمل تحقیقات کرائی جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز میں کا نام
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔