ترلائی کلاں خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، چار سہولت کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پشاور/نوشہرہ(نیوز ڈیسک) ترلائی کلاں میں ہونے والے خودکش دہشت گرد حملے کی تحقیقات میں انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم پیش رفت کر دی ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق، پشاور اور نوشہرہ میں چھاپوں اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، جس کے نتیجے میں خودکش حملے کے چار سہولت کار گرفتار اور حملے کے ماسٹر مائنڈ کو بھی حراست میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، خودکش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش کے زیر نگرانی کی گئی تھی۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں سرگرم داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
آپریشن کے دوران ایک وطن پرست جوان شہید اور تین افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ سیکورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مقامی حکام اور سیکورٹی اداروں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر معمولی سرگرمیوں کی اطلاع فوری دیں تاکہ مزید حملوں کو ناکام بنایا جا سکے اور خطے میں امن قائم رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔