کراچی بورڈ کا میٹرک امتحانات کے لیے نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی بورڈ نے میٹرک امتحانات کے لیے نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں میٹرک اور نائن تھ کلاسز کے لیے تعلیمی نظام میں بڑا اصلاحی قدم اٹھاتے ہوئے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے نیا گریڈنگ سسٹم متعارف کروا دیا ہے، جس کا اطلاق رواں برس جماعت نہم کے سالانہ امتحانات سے ہوگا جبکہ جماعت دہم کے طلبہ کے لیے یہ نظام سال 2027 سے نافذ العمل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا بنیادی مقصد طلبہ کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور امتحانی دباؤ کو کم کرنا ہے، اس نظام کے تحت میٹرک میں کامیابی کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبر حاصل کرنا لازم ہوگا جبکہ 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ U گریڈ کے حامل ہوں گے اور انہیں دوبارہ امتحان دینے کا موقع دیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے نظام میں فیل کا تصور ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے بجائے یو گریڈ (U) متعارف کروا دیا گیا ہے، تاکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
نئے گریڈنگ سسٹم میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ 96 سے 100 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو A++ گریڈ دیا جائے گا، جبکہ دیگر گریڈز بھی نمبر کے تناسب سے تفصیلی طور پر مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ہر طالب علم کی کارکردگی کو شفاف انداز میں ظاہر کیا جا سکے۔
مزید برآں، بورڈ نے عبوری طور پر جی پی اے سسٹم کو بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو معیاری اور عالمی معیار کے مطابق جانچنا ہے، یہ اقدام نہ صرف تعلیمی معیار بلند کرے گا بلکہ طلبہ میں مقابلہ جاتی روح کو بھی فروغ دے گا اور مستقبل میں کامیاب طلبہ کی شناخت میں مددگار ثابت ہوگا۔
بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی نے والدین اور اساتذہ کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ طلبہ کی تیاری اور اس نئے نظام کے مطابق رہنمائی کریں تاکہ ہر طالب علم اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے اور تعلیمی سفر میں مثبت نتائج حاصل کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گریڈنگ سسٹم کے مطابق طلبہ کی کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔