اسلام آباد خودکش دھماکہ: جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 33 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے دلخراش خودکش حملے میں ایک اور زخمی شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کے بعد اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال میں دھماکے کے بعد زخمیوں اور لاشوں کی تعداد ابتدائی طور پر 149 ریکارڈ کی گئی تھی، جن میں 121 افراد زخمی اور 28 شہدا شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال میں رات بھر جاری طبی امداد کے بعد زخمیوں کی تعداد 64 رہ گئی ہے، جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور 9 زخمی آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کا علاج سرجیکل وارڈ 1 اور سرجیکل وارڈ 4 میں جاری ہے، جبکہ پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی زیرِ علاج ہیں۔
اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں جاں بحق 33 شہدا کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تشویشناک حالت کے مریضوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو فوری طور پر کنٹرول کیا جا سکے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں امام بارگاہ پر پیش آئے خودکش دھماکے کے المناک واقعے میں شہید ہونے والے 15 افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خودکش حملہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آیا، جس نے ملک بھر میں تشویش اور غم کی لہر پیدا کر دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سانحے کے بعد سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور مساجد و عبادت گاہوں میں اضافی حفاظتی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی دوبارہ دہشت گردی کی کوشش ناکام بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسلام آباد کی تعداد کے بعد
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ