اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلے سے گرفتار حملہ آور کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کے بعد اب اس کے بہنوئی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جس سے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے اور واقعے کے پس منظر سے جڑی کئی نئی کڑیاں سامنے آنے لگی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی کارروائی کے دوران پشاور میں چھاپہ مار کر خودکش حملہ آور کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ تازہ کارروائی میں اس کے بہنوئی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، زیر حراست افراد سے ہونے والی پوچھ گچھ کے دوران اہم معلومات ملی ہیں، جن کی بنیاد پر مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے شناختی کارڈ کی مدد سے حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے کی گئی، جس کا مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور جبکہ موجودہ رہائش گاہ گنج محلہ قاضیان پشاور درج ہے، شناختی کارڈ کی برآمدگی نے تفتیش کو درست سمت فراہم کی اور حملہ آور کے پس منظر تک پہنچنے میں مدد ملی۔

تفتیشی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ خودکش حملہ آور گزشتہ پانچ ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اس نے نہ صرف اسلحہ چلانے بلکہ خودکش حملے کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی۔

حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کو ایک منظم نیٹ ورک کی معاونت حاصل تھی، جو اس کی نقل و حرکت اور منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتا رہا۔

پولیس نے پشاور اور نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں حملہ آور کے ممکنہ سہولت کاروں اور رابطوں کی تلاش کے لیے چھاپوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ اس دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں، جو اسلام آباد میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی مکمل تصویر سامنے لائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حملہ آور کے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار