ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگائیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے ان پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
جمعے کو جاری کیے گئے حکم نامے میں ٹیرف کی حتمی شرح واضح نہیں کی گئی، تاہم 25 فیصد شرح بطور مثال پیش کی گئی ہے۔ آرڈر کے مطابق یہ محصولات ان تمام ممالک پر لاگو ہو سکتے ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ ایران سے اشیا یا خدمات خریدیں گے اور پھر امریکہ کے ساتھ تجارت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟
صدر ٹرمپ نے حکم نامے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ایران کے لیے ‘کوئی جوہری ہتھیار نہیں’ کا مؤقف دہرایا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمان میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ‘انتہائی مثبت’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، بصورت دیگر نتائج سنگین ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام ایران کے خلاف جاری قومی ایمرجنسی کے تسلسل کا حصہ ہے اور حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث 15 اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا سے بالواسطہ مذاکرات، عمان کی ثالثی میں مسقط میں اہم پیشرفت
ایران پہلے ہی امریکی اور مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جن کے باعث اس کی معیشت شدید دباؤ میں ہے اور خوراک کی مہنگائی 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ تہران جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اپنے پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔