افغانستان نے دہشت گردوں کو نہ روکا تو نتائج مختلف ہوں گے: طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ اگر افغانستان نے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کو نکیل نہ ڈالی تو اس کے نتائج مختلف اور سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ سانحہ ترلائی میں ملوث خودکش حملہ آور نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا اس معاملے پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے، اب بھی وقت ہے کہ افغانستان دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا افغانستان کے لوگ پاکستان کی چالیس سالہ مہمان نوازی کو بھول گئے ہیں؟ حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجا ہے۔
چیئرمین پاکستان علما کونسل کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، اور اب بھارت اپنی ناکامی کا بدلہ معصوم شہریوں سے لے رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طاہر اشرفی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔