ڈیفنس بل بورڈ پر نازیبا مواد چلانے والے کا ویڈیو بیان وائرل، اصل کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈز پر نازیبا ویڈیو چلانے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا جس کا اعترافی ویڈیو بیان وائرل ہورہا ہے۔
ملزم نے اپنے ویڈیو بیان میں اعتراف کیا کہ وہ شاہراہ فیصل پر موجود مذکورہ اشتہاری کمپنی میں پینتیس ہزار ماہوار کی تنخواہ پر ملازم اور لیاقت آباد کا رہائشی ہے۔ ملزم کی عمر کے بارے میں افواہ پھیلائی گئی کہ وہ 17 سال کا ہے، لیکن ملزم کا کہنا ہے کہ اس کی عمر بیس سال ہے لیکن ابھی شناختی کارڈ نہیں بنا، والد کے شناختی کارڈ پر اسے ملازمت دی گئی ہے۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ کمپنی کی طرف سے چلائے جانے والے اشتہار موبائل میں موجود تھے اور موبائل میں ہی موجود نازیبا مواد غلطی سے اشتہارات کے ساتھ چل گیا۔
رپورٹر نے ملزم سے سوال کیا کہ وہ فحش مواد کہاں سے آیا تو ملزم کا کہنا تھا کہ یہ مواد اس کے پاس واٹس ایپ گروپ سے آیا تھا۔ ملزم نے کہا کہ معاملے پر معافی بھی مانگی ہے۔ فوری طور پر اس لیے سامنے نہیں آیا تھا کیونکہ نوکری جانے کا ڈر تھا۔
یہ خبر بھی پڑھیے: ڈیفنس کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈز پر نازیبا ویڈیو چل گئی، شہریوں میں غصہ
یاد رہے کہ ڈیفنس میں نصب ڈیجیٹل اشتہاری اسکرینز پر چند لمحوں کےلیے نازیبا ویڈیو چلنے کے واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غصے اور تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو اس کے موبائل فون سے حادثاتی طور پر نشر ہوگئی تھی۔
مزید پڑھیںڈیفنس کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈز پر نازیبا ویڈیو چل گئی، شہریوں میں غصہ
یہ واقعہ دو روز قبل اس وقت سامنے آیا جب ڈیفنس کی مرکزی شاہراہ پر لگے ایس ایم ڈی بل بورڈ پر اچانک نامناسب مناظر دکھائی دینے لگے۔ بعض شہریوں نے منظر کو اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد معاملہ تیزی سے پھیل گیا اور انتظامیہ کی توجہ حاصل کرلی۔
نجی اشتہاری کمپنی کے آپریشن منیجر آصف خان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حرکت کے پیچھے کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق ادارے نے خود ایک ملازم کو پولیس کے حوالے کیا تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔ پولیس نے اس معاملے پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 292 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، جو فحش مواد کی تیاری، تقسیم یا عوامی نمائش کو جرم قرار دیتی ہے۔ اس قانون کے تحت قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت تر کارروائی کا بھی امکان ہے۔
بعد ازاں اشتہاری کمپنی کے قانونی مشیر شاکر رشید کی درخواست پر گذری تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق چار فروری کی رات نو بج کر 37 منٹ پر آصف خان نے اطلاع دی کہ خیابانِ اتحاد پر عائشہ مسجد کے قریب نصب اسکرین پر وقفے وقفے سے نازیبا ویڈیو کلپ نشر ہو رہا ہے، جس سے عوامی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ مدعی نے بتایا کہ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور صورتحال دیکھنے کے بعد اسکرین بند کروا دی گئی۔
آصف خان کا کہنا تھا کہ یہ نظام کلاؤڈ بیسڈ ہے اور اس میں سیکیورٹی کے انتظامات موجود ہیں، تاہم اس وقت تحقیقات جاری ہیں۔ ہیکنگ کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا، البتہ یہ ضرور کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف کمپنی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
ادھر ماہرین کے مطابق ایس ایم ڈی یعنی سرفیس ماؤنٹ ڈیوائس اسکرینز جدید ایل ای ڈی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہیں، جن کے ہر پکسل میں سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے ننھے ڈائیوڈز لگے ہوتے ہیں۔ یہ مختلف شدت سے روشنی خارج کر کے لاکھوں رنگ پیدا کرتے ہیں، جس سے تصویر نہایت صاف اور روشن دکھائی دیتی ہے۔ ایسی اسکرینز عام طور پر بڑے بل بورڈز، شاپنگ مالز، اسٹیڈیمز اور مصروف شاہراہوں پر نصب کی جاتی ہیں اور ان کا کنٹرول کلاؤڈ یا لوکل سرور سے کیا جاتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ نظام انٹرنیٹ یا وائی فائی سے منسلک ہوں تو سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نیٹ ورک یا سافٹ ویئر میں موجود کمزوریاں ہیکرز کو سسٹم تک رسائی دے سکتی ہیں، جبکہ کلاؤڈ سے جڑی سکرینز میں کمپنی کے اندرونی ڈیٹا کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید حقائق سامنے آنے پر قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نازیبا ویڈیو مصروف شاہراہ ڈیفنس کی کے مطابق کمپنی کے کا کہنا کیا کہ کے بعد
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔