ترجمان دفترخارجہ تبدیل، ڈاکٹر فیصل کی جگہ برطانیہ میں نیا ہائی کمشنر نامزد
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
دفترخارجہ میں اہم سفارتی تقرریاں اور تبادلوں کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت ترجمان دفترخاجہ طاہر اندرابی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب اور برطانیہ میں ڈاکٹر فیصل کی جگہ نیا ہائی کمشنر نامزد کردیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خارجہ میں 24 اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی منظوری دے دی، کیپٹن (ر) عثمان ٹیپو کو برطانیہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر نامزد کیا گیا ہے، وہ ڈاکٹر فیصل کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل ستمبر میں آمنہ بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سیکریٹری خارجہ کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نے بلال احمد کو جنیوا میں پاکستان کے اقوام متحدہ مشن سے سعودی عرب تعینات کرنے کی منظوری دی ہے، وہ احمد فاروق کی جگہ لیں گے، جو اسلام آباد واپس آ ئیں گے، اسی طرح مدثر ٹیپو کو ایران سے ازبکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغانستان میں بھی نیا سفیر نامزد کیا گیا ہے اور ڈاکٹر سید اسد علی گیلانی کو افغانستان میں سفیر مقرر کیا گیا ہے جبکہ عبید الرحممان نظامانی کو سویڈن میں تعینات کیا گیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں تعینات سلمان کو جرمنی اور ثانیہ افضل قاضی کو تھائی لینڈ میں سفیر مقرر کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کا مستقل نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔
عاصم علی خان کو ناروے میں سفیر، سراج احمد خان کو قونصل جنرل لاس اینجلس، اسد شہزاد کو یوگنڈا اور محمد فیصل عبرو کو قونصل جنرل مونٹریال تعینات کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ خلیل ہاشمی (چین)، علی جاوید (اٹلی) اور عامر آفتاب قریشی (یونان) کو اپنی سرکاری مدت پوری ہونے کے باوجود توسیع دے دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برطانیہ میں ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل کیا گیا ہے کی جگہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔