شوبز کے لوگ اداکاراؤں پر کالا جادو کرانے کےلیے آتے ہیں، ماہر نجوم کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پاکستانی اداکار اور ماہرِ نجوم راجہ حیدر نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد معروف اداکاراؤں، خصوصاً ڈرامہ ہیروئنز، کے خلاف کالا جادو کروانے کے لیے ان سے رابطہ کرتے رہے ہیں۔
مشک اور جانِ جہاں جیسے ڈراموں میں اداکاری کرنے والے راجہ حیدر نجوم سے متعلق مشوروں کے لیے اپنا یوٹیوب چینل بھی چلاتے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جہاں زیادہ تر لوگ مستقبل سے متعلق رہنمائی کے لیے ان کے پاس آتے ہیں، وہیں کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اداکاراؤں کے خلاف کالا یا براؤن میجک کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ ان کے مطابق افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے افراد کا تعلق بھی شوبز انڈسٹری سے ہی ہوتا ہے۔
راجہ حیدر کا کہنا تھا کہ لپ اسٹک اور موبائل فون جیسی چیزوں کے ذریعے بھی کالا جادو کیے جانے کی باتیں کی جاتی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کبھی ایسی درخواستیں قبول نہیں کرتے۔ ان کے مطابق بعض لوگ اصرار کرتے ہیں کہ اگر وہ انکار کریں گے تو کسی اور سے یہ کام کروا لیا جائے گا، جو اس رجحان کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔