متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلیں دائر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ایمان مزاری: فائل فوٹو
متنازعہ ٹوئٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ٹرائل کورٹ سے سزا کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی ہیں۔
مرکزی اپیلوں کے ساتھ سزا معطلی کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں جس میں اپیلوں پر فیصلے تک سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
انسداد الیکٹرانک کرائمز کی عدالت کے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17-17 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے ہادی علی چٹھہ، ایمان مزاری کو شوکاز نوٹس دے دیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں انسداد الیکٹرانک کرائمز کی عدالت سے سزا کا فیصلہ چیلنج کر دیا جس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
اپیلوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ ٹرانسفر کی درخواست ہائیکورٹ میں زیر التوا ہوتے ہوئے بھی فیصلہ دے دیا حالانکہ کیس ٹرانسفر کی درخواست زیر التوا ہونے پر قانونی طور فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی اپیلوں میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ جیت حق دفاع ختم کرکے شفافیت کو نظر اندازہ کیا۔ ایک اسٹیٹ کونسل نے سوالات پہلے سے بتائے جانے کی شکایت کی تو عدالت نے تحقیقات نہیں کروائیں۔
اپیل کنندگان کے مطابق ٹرائل کورٹ جاتے ہوئے گرفتاری کے وقت تشدد کرکے گرفتاری کی گئی۔ ویڈیو لنک حاضری کے وقت عدالت نے تشدد کے الزام کا کوئی جائزہ نہیں لیا۔ بغیر فائل کے کیسے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے جرح ہو سکتی تھی؟
مرکزی اپیلوں کے ساتھ سزا معطلی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں جس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ٹرائل کورٹ کی گئی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔