گووندا کی اہلیہ کا 58 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں ڈیبیو؛ کونسی فلم سائن کی؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
طلاق کی افواہوں کی خبروں کے درمیان بالی ووڈ کے مشہور اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے اپنی پہلی بالی ووڈ فلم سائن کرلی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا اب بالی ووڈ میں اداکارہ کے طور پر ڈیبیو کرنے والی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سنیتا آہوجا نے ایکتا کپور کے بالاجی موشن پکچرز کے بینر تلے بننے والی فلم میں مرکزی کردار کے لیے معاہدہ کر لیا۔
یہ فلم ابھی تک نامزد نہیں کی گئی ہے مگر رپورٹس کے مطابق سنیتا آہوجا تقریباً 20 دن تک شوٹنگ کریں گی اور ان کا کردار فلم میں اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے باوجود کہ ان کے شوہر گووندا 90 کی دہائی میں فلمی دنیا کے مقبول ہیرو تھے لیکن سنیتا آہوجا نے کبھی شوبز میں کسی بھی سطح پر شمولیت اختیار نہیں کی۔
تاہم اب ان کا بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنا دیر آید درست آید کے مصداق ایک اہم انٹری سمجھی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا ہے یہ کتنی کامیاب اور دیرپا ثابت ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گووندا اور سنیتا کی بیٹی ٹینا آہوجا بھی فلمی دنیا میں ڈیبیو کرچکی ہے جبکہ جوڑے کے بیٹے یش وردھن آہوجا کو بھی جلد فلم میں نظر آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔