شاہراہ قراقرم؛ راولپنڈی سے گلگت جانے والی گاڑی حادثے کا شکار، 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
شاہراہ قراقرم پر کوہستان کے علاقے میں راولپنڈی سے گلگت جانے والی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 2 شدید زخمی ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق راولپنڈی سے گلگت جانے والی گاڑی کو حادثہ لوئر کوہستان کے علاقے تریس بانڈہ میں پیش آیا، جہاں موٹر کار مرکزی شاہراہ سے نیچے دریائے سندھ کے کناری جا گری۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ حادثے کے بعد مقامی افراد، پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، زخمیوں اور جاں بحق افراد کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق ٹریفک حادثے میں جاں بحق افراد میں غفر گلگت سے تعلق رکھنے والے اشفاق احمد ولد فرہان ولی، عبدالحسیب ولد عبدالجبار اور عمیر ولد نورمحمد کا تعلق چلاس سے ہے۔
مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو پہاڑی راستوں پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔