مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے کیخلاف گلگت میں ریلی و مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
مقررین نے شہداء کے ساتھ اظہارِ عقیدت کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے ہمدردی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دشمن عناصر اور تکفیری نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شہداء و زخمیوں کی مکمل داد رسی کی جائے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کی خلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف آج نمازِ عصر کے بعد مرکزی امامیہ جامعہ مسجد گلگت سے کیپٹن ضمیر عباس چوک تک ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جبکہ قائدِ ملت جعفریہ گلگت بلتستان سید راحت حسین الحسینی سمیت دیگر علماء کرام نے خصوصی شرکت کی اور مقررین سے خطاب کیا۔ مقررین نے شہداء کے ساتھ اظہارِ عقیدت کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے ہمدردی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دشمن عناصر اور تکفیری نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شہداء و زخمیوں کی مکمل داد رسی کی جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سانحہ ترلائی کی کرتے ہوئے زخمیوں کی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔