سندھ کی سیاست کے تاریخی مغالطے
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
پاکستانی سیاست میں آج کل سندھ کی سیاست اور اس میں مختلف سیاسی اور سماجی رجحانات زیر بحث ہیں،انھی مباحث کے درمیان ہر ایک کے سوچنے اور چیزوں کو دیکھنے کا اپنا ایک انداز ہے جن سے اختلاف یا اتفاق دونوں جمہوری طرز فکر کے دائرے سمجھے جا سکتے ہیں۔
سندھ کی موجودہ سیاسی،معاشی اور سماجی صورتحال کو سمجھنے کے لیے جب تک ہم سندھ کے تاریخی اور سیاسی سماج کو نہیں سمجھیں گے تو اس وقت تک موجودہ بگاڑ کی سی کیفیت کا شاید ادراک نہ کرپائیں، سندھ کی سیاست نہ کوئی نئی ہے نہ سندھ کی سیاست کے مختلف خدوخال یا تبدیلی کے عمل سے ہمارے بیشتر تجزیہ کار اوراحباب نا واقف بھی نہیں۔
سوال یہاں یہ ہے کہ جب سندھ کی تاریخی مزاحمتی سیاست کے پیچ و خم سے واقف دوست حالات کی تبدیلی کے زیر اثر سندھ کی سیاست کا تاریخی پس منظر ہی بھول جائیں تو پھر ان احباب کی سوچ کو کیا کہا جائے ؟
آج کی اس گفتگو میں میرے دو محترم دوستوں کی سندھ کی سیاسی صورتحال کے بارے میں کی گئی گفتگو اور رائے زیر بحث رہے گی،ان دونوں دوستوں کی گفتگو میں تاریخی مغالطوںکو درست کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
اس ضمن میں سب سے پہلے ذکر ہو جائے پی ٹی آئی حکومت میں ایف بی آر کے چیئرمین رہنے اور سمجھے جانے والے ماہر معاشیات شبر زیدی کے اس تازہ بیان پر جو آج کل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں شبر زیدی کا خیال ہے کہ’’اگر پنجاب اس قدر ترقی یافتہ ہو گیا ہے تو اس پنجاب کے مختلف حصوں سے روزگار کی تلاش میں لوگ کراچی سندھ کا رخ کیوں کرتے ہیں،جس کی مثال میں شبر زیدی نے جنوبی پنجاب سے آنے والے افراد کی آمدکا حوالہ دیا ہے جو ذریعہ معاش کی تلاش میں کسی قدر صنعتی شہر کراچی سندھ میں آتے ہیں؟‘‘
بادی النظر میں شبر زیدی سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے رہائشیوں کے حق میں بات کرتے ہوئے سندھ حکومت کی اس غیر ترقی یافتہ سوچ کو سہارا دے رہے ہیں جو اپر مڈل کلاس سے لے کر وڈیرانہ اور جاگیردارانہ سوچ کا مظہر ہے۔
تو آیئے شبر زیدی صاحب کی اس غیر منطقی سوچ اور دلیل کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں،مگر اس سے قبل یہ باور کرانا بہت ضروری ہے کہ شبر زیدی ایک پوڈ کاسٹ میں اینکر سے یہ دعویٰ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ’’دیکھو مجھ سے کبھی تاریخ پر بحث نہ کرنا۔‘‘
متحدہ ہندوستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ برطانوی راج نے متحدہ ہندوستان کے تین شہروں کلکتہ،بمبئی اور سندھ میں کراچی کو صنعتی شہر کے لیے چنا تھا،جس کی بنیادی وجہ پورٹ اور سمندری راستے سے آسانی سے تجارت کا ہونا تھا۔
اس مقصد کے تحت کراچی سندھ میں 1930 کے لگ بھگ پہلا توانائی کا منصوبہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے نام سے تعمیر کیا گیاتھا تاکہ کراچی ایسے صنعتی شہر کو سب سے پہلے بجلی کی توانائی پہنچائی جا سکے جو کہ کسی بھی صنعتی پیداوار کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔
دوم اگر کسی معاشی ماہر کو صنعت چلانے کے لیے بنیادی ضرورت ہنر مند اور غیر ہنر مندوں ، مزدوروں کی اہمیت کا علم نہ ہو تو اس کے ماہر معیشت ہونے پر ازخود سوال کھڑا ہو جاتا ہے،سوم کہ یہ ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کہاں سے آئیں گے اور ان کا تعلق کس رنگ نسل یا خطے سے ہوگا،یہ کسی بھی صنعت کار کے لیے لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی صنعتی مزدور کی تلاش میں یہ شرط لگائی جا سکتی ہے کہ وہ محنت مزدوری کرنے کے لیے نقل مکانی نہ کر سکے۔
البتہ تمام صنعت کار اس امر کو بخوبی نظر میں رکھتے ہیں کہ ان کی پیداواری لاگت کے حجم کو کم کرنے کے لیے اگر مقامی اہل افراد ہوں تو وہ صنعت کار سب سے پہلے ان مقامیوں کو ہی اپنی صنعتی پیداوار کا حصہ بنائے گا جوکہ سستا اور فوری طور سے دستیاب ہوگا۔
مقامی صنعتوں کو قائم کرنے اور ان میں مقامی ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدور کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی تاریخ کے فلسفی کارل مارکس نے دو سو برس پہلے یہ بات سمجھا دی تھی کہ’’مقامی صنعتوں کا قیام ملک یا خطے کی ترقی کے ساتھ ساتھ آبادی کی منتقلی کو روکنے کا وہ سب سے کار آمد عمل ہے جو افراد کے مابین محنت کی بنیاد پر رشتے استوار بھی کرے گا اور مزدور طبقہ ایک دوسرے سے باہمی رشتے جوڑ کر صنعتی ترقی کو مسابقت کی بنیاد پر محنت کے رشتوں میں جڑ جائے گا‘‘۔
محنت کا یہ عمل اس وقت تک کارگر ثابت نہ ہوگا جب تک کوئی ملک صنعتوں کا جال مقامی صنعتوں میں تبدیل نہ کرے،یہ مارکس کا وہ بنیادی مارکسی نظریہ تھا جو افراد کے آپسی رشتوں میں محبت اور یگانگت پیدا کرنے کا نسخہ کیمیا تھا،جس سے بے ہنگم اور لالچ سے ڈوبی سرمایہ کاری یا پالیسی ساز آج تک نہیں سمجھ سکے ہیں، جس کا منفی نتیجہ ایک دوسرے پر شک کرنا اور آپسی رشتوں کو کمزور کرنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
مقامی صنعتوں کی ضرورت اور قریب کی جگہ پر افراد کے روزگار ملنے کے مواقع پیدا کرنے پر ہمارا معیشت دان کیوں حکومتی سرکل میں یہ بات اٹھاتا، تاکہ بڑے شہروں میں معاشی انتقال کا ٹھوس سطح پر تدارک کیا جا سکے؟
اس موقع پر بزعم خود معاشی ماہر سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ امریکا میں واشنگٹن ،شکاگو،میکسیکو اور دیگر بڑے بڑے شہر ہیں تو امریکا کا معاشی حب نیو یارک ہی کیوں ہے ؟جرمنی میں برلن ہی کیوں معاشی شہر کہلاتا ہے ؟یا کہ ہندوستان میں دہلی،لکھنو اور الہ آباد ایسے بڑے شہر ہیں تو روزگار کے لیے لوگ بمبئی اور کلکتہ کیوں جاتے ہیں؟
پاکستان میں اسلام آباد،فیصل آباد اور سیالکوٹ بھی ہے تو لوگ لاہور کی طرف کیوں رخ کرتے ہیں؟ یاد رکھا جائے کہ جہاں روزگار کے بہتر مواقع میسر ہونگے وہاں روزگار کی تلاش میں دیگر مقامات سے افراد کا آنا لازمی جز ہوگا وگرنہ شہروں کی طرف منتقلی کے عمل کو روکنا ہے تو تمام معاشی راستے اور صنعتی سہولیات لوگوں کو ان کی دہلیز پر دے دیجیے تاکہ صنعتی مسابقت بھی ترقی کرے اور لوگوں کی نقل مکانی پر بھی قابو پایا جا سکے۔
آج کل سندھ کے صدر مقام کراچی کی موجودہ سیاسی صورتحال کوجہاں اعتدال پسندی اور باہمی گانگت سوچ کی ضرورت ہے اتنی شاید اس سے قبل نہ تھی، سندھ کے اس پیچیدہ سیاسی منظر نامے میں جب ہمارے انتہائی محترم سینئر صحافی، تاریخی مغالطہ آرائی کریں تو سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔
تقسیم ہند کی تاریخ کے تناظر میں یہ حقیقت کس سے پوشیدہ ہے کہ ایک مذہبی جماعت ہی الگ ملک پاکستان بنانے کی مخالف تھی اور انھی کے ایک ہر دلعزیز نظریہ دان مولانا ظفر انصاری نے قرارداد مقاصد لکھ کر دی تھی اور انھی صاحب نے آمر جنرل ضیا کی آٹھویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ تیار کیا جس سے بعدازاں ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچا۔
اسی کے ساتھ کون اس حقیقت سے واقف نہیں کہ جنرل ضیا نے پیپلزپارٹی کے تاج حیدر کی جیت کے مقابل ستار افغانی کو میئر بنایا اور اسی طرح جنرل مشرف نے اپنے آمرانہ بلدیاتی نظام کو چلانے کے لیے ایم کیو ایم کو بائیکاٹ پر مجبور کیا جس کا فائدہ دوسری جماعتوں کو پہنچا اور نعمت اللہ خان الیکشن جیت کر میئر کراچی بنے۔
سیاسی تناظر میں مذکورہ جماعت نے طالبان اور اسامہ بن لادن کے حمایتی بانی پی ٹی آئی کے جلوسوں میں شرکت کرکے’’ کراچی پکار رہا ہے‘‘ اور’’ آؤ بدلیں اپنا کراچی‘‘ کے نعروں تلے کراچی کی سیاست کی،اسی کے ساتھ وصی مظہر ندوی جنرل ضیا کے وہ چہیتے میئر تھے جنھوں نے جماعت کو شکست دی اور وہ حیدرآباد کے میئر بنے۔
وصی مظہر ندوی جنرل ضیا کے وزیر مذہبی امور اور ان کے تا حیات اقتدار کے ڈرافٹ کے تخلیق کار بھی رہے ہیں، تحریر لکھنے کے دوران اس بات کا خیال ضرور رکھا جانا چاہیے کہ کہیں تاریخی مغالطوں کے سبب ہم اپنی نسل کو گمراہ کرنے کے مجرم تو نہیں بن رہے ہیں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ کی سیاست مقامی صنعتوں کی تلاش میں جنرل ضیا سندھ کے بڑے شہر کرنے کے اور ان کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔