لاپتا افراد پوری دنیا کا مسئلہ‘ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے‘ وفاقی وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد پوری دنیا کا مسئلہ ہے ‘ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے‘جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے قانون کے نظام کو پہلے سے بہت بہتر کر دیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ یہ مہذب معاشرے کا حسن ہے‘ آئینی ترمیم کے معاملے پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، جو مرضی ہو جائے، طے ہے کہ 22 کروڑ عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے۔انہوں نے بتایا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے، جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا، پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ، کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں، آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ پتا چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئین کہتا ہے کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے، 1973ء سے لے کر آج تک عدالت عظمیٰ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا، میں وہ آخر شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، جب بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے، جب آپ ریڈ لائن کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز