8 فروری احتجاج: پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کیا حکمت عملی بنائی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
تحریکِ تحفظ آئینِ پاکستان کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 8 فروری کو احتجاج کے اعلان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالے گی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق 8 فروری کے احتجاج کی تیاریاں مکمل ہیں اور تمام اضلاع میں ضلعی قائدین اور منتخب اراکین کی قیادت میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج کی کال، پی ٹی آئی پنجاب کی کارکنوں کے لیے ہدایات جاری
پی ٹی آئی کے مطابق خیبرپختونخوا میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام احتجاج ہوگا، جس کے لیے ٹرانسپورٹرز اور تاجر رہنماؤں کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔
پشاور میں کہاں احتجاج ہوگا؟پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کے احتجاج کے لیے کئی دنوں سے تیاری کررہی تھی اور صوبائی قائدین اور کابینہ کے اراکین خود مہم چلا رہے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ پشاور میں تاریخی احتجاج ہوگا، اور مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام رہےگا۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں احتجاج نشتر آباد اور ہشتنگری سے شروع ہوگا۔
’ہمارے کارکنان ہشتنگری گیٹ کے سامنے جمع ہوں گے اور یہاں سے تاریخی چوک یادگار تک ریلی نکالی جائے گی، جہاں چوک یادگار میں قائدین خطاب بھی کریں گے۔‘
پی ٹی آئی پشاور کے رہنما عرفان سلیم نے بتایا کہ احتجاج کے لیے پورے شہر میں مہم چلائی گئی، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں کی گئیں اور آج کے لیے مکمل حمایت کا اعلان حاصل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارخانو مارکیٹ میں بھی مکمل حمایت کا اعلان ہو گا، جبکہ پہیہ جام کی بھی مکمل حمایت ہو گی۔ ’ہم آج بتائیں گے کہ پوری قوم ہمارے ساتھ ہے۔‘
اکرام کھٹانہ نے بتایا کہ صوبے بھر میں مکمل طور پر پرامن پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن احتجاج ہوگا۔
بلوچستان سے خیبر تک احتجاج ہوگا؟مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے بتایا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں احتجاج ہوگا اور پی ٹی آئی کے کارکنان بڑی تعداد میں اپنے اپنے شہروں میں احتجاج شریک ہوں گے۔
’پورے ملک میں احتجاج ہوگا، بلوچستان سے لے کر خیبر تک لوگ اپنے ضمیر کی آواز سامنے لائیں گے۔‘
خیبرپختونخوا کے کون سے اضلاع میں احتجاج ہوگا؟اکرام کھٹانہ نے بتایا کہ پشاور کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع میں احتجاج، مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔
’آج صوبے کے تمام اضلاع میں کارکنان عام انتخابات میں بدترین دھاندلی کے خلاف نکلیں گے۔ کہیں ریلی ہوگی، کہیں احتجاج ہو گا اور کہیں مظاہرے ہوں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے تمام اضلاع میں احتجاج کی مکمل تیاری کرلی ہے اور چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک احتجاج ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ مردان، نوشہرہ، چارسدہ، دیر، صوابی، ہزارہ ڈویژن، مالاکنڈ ڈویژن اور جنوبی اضلاع میں احتجاج ہوگا۔
احتجاج کے بارے میں رہنما کیا کہتے ہیں؟پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی اپنے فیصلے خود نہیں کرے گی بلکہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی جانب دیکھے گی۔
انہوں نے کہاکہ مبینہ دھاندلی پی ٹی آئی کا مسئلہ ہے اور پی ٹی آئی اس سے متاثر ہوئی ہے۔
’تیاریاں ہم کریں گے، کارکنان ہمارے ہوں گے، تشدد ہمارے کارکنان پر ہو گا، لیکن اعلان اور مرضی دوسروں کی ہوگی۔‘
انہوں نے کہاکہ پارٹی میں اندرونی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر مایوسی بڑھے گی۔
مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج: علی امین گنڈاپور کی عدم دلچسپی اور جنید اکبر کا جارحانہ انداز
’کارکنان کو کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہے گا، علی امین گنڈاپور کے اقدامات کے بعد سہیل آفریدی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔‘
انہوں نے کہاکہ انہیں اندازہ ہے کہ 8 فروری کو کارکنان نکلیں گے اور احتجاج بھی ہو گا، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احتجاجی حکمت عملی پشاور پی ٹی آئی احتجاج تحریک تحفظ آئین پاکستان خیبرپختونخوا مبینہ دھاندلی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احتجاجی حکمت عملی پشاور پی ٹی ا ئی احتجاج تحریک تحفظ ا ئین پاکستان خیبرپختونخوا مبینہ دھاندلی وی نیوز انہوں نے بتایا کہ اضلاع میں احتجاج میں احتجاج ہوگا تمام اضلاع میں مکمل حمایت احتجاج کے پی ٹی آئی پہیہ جام ہوں گے کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک