حکومت ٹیکس کے پیسے سے بزنس کررہی ہے،کمرشل سرگرمیاں حکومت کاکام نہیں، وفاقی وزیرنجکاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کاروبار کر رہی ہے، حالانکہ کمرشل سرگرمیاں حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ تاحال غیر دستاویزی ہے، جس کے باعث کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ڈاکومنٹ نہیں کیا جاتا، اس میں بہتری ممکن نہیں، جبکہ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایک ایسا صوبہ بھی ہے جس کی آبادی10 کروڑ کے قریب ہے، اور ملک کا تنخواہ دار طبقہ ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، جبکہ ٹیکس کی رقم سرکاری اداروں کے نقصانات پورے کرنے پر خرچ ہو رہی ہے۔
اس موقع پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کی اصل وجہ یہ نہیں کہ سیاست دان خراب ہیں، بلکہ مسئلہ سیاسی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔
جبکہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ صرف گارمنٹس کی برآمدات سے ملک ترقی نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستان وہ مصنوعات تیار نہیں کر رہا جن کی عالمی منڈی میں ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔