بنگلہ دیشی کے لیے آئندہ ہفتہ اہم، شفاف اور پرامن ووٹنگ یقینی بنانا چیلنج ہوگا، چیف ایڈوائزر محمد یونس
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتہ انتہائی اہم ثابت ہوگا کیونکہ ملک 12 فروری کو ہونے والے قومی پارلیمانی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔
ہفتے کے روز جمنہ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ اب تک انتخابی تیاریوں کا مرحلہ بہت اچھے انداز میں مکمل کیا گیا ہے، تاہم اصل چیلنج شفاف اور پُرامن ووٹنگ کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے وفد کی چیف ایڈوائزر سے ملاقات، آئندہ انتخابات پر گفتگو
انہوں نے کہا کہ ہم اب تک کی تیاریوں سے بہت مطمئن ہیں، اب ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ووٹنگ کا عمل ہموار اور پُرامن انداز میں مکمل ہو، اس لیے آئندہ ہفتہ نہایت اہم ہوگا۔ اجلاس میں مجموعی انتخابی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بعد ازاں چیف ایڈوائزر کے پریس سیکریٹری شفیق الاسلام نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محمد یونس کے مطابق ملک بھر میں انتخابی مہم پُرسکون اور تہوار جیسی فضا میں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ذاتی حملوں اور نازیبا زبان سے گریز کر رہی ہیں، جو بنگلہ دیش کی ماضی کی سیاسی روایت کے برعکس ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ تبدیلی ملک کی سیاسی تاریخ اور جمہوری کلچر کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش عام انتخابات: نوجوان امیدواروں کی بھرمار، پرانی سیاست کا توازن بدلنے لگا
عبوری حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن انداز میں کرائے جائیں گے اور نتائج کے بعد اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش محمد یونس نے کہا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔