سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کا ڈرون حملہ، 8 بچوں سمیت 24 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
خرطوم (ویب ڈیسک) وسطی سوڈان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے امدادی قافلے کو نشانہ بنائے جانے کے ایک دن بعد ریپڈ سپورٹ فورسز نے بے گھر خاندانوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو ڈرون سے نشانہ بنایا جس میں کم از کم 24 افراد مارے گئے جن میں 8 بچے شامل ہیں۔
سوڈان کی جنگ پر نظر رکھنے والے سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے شمالی کردفان ریاست کے شہر الراھد کے قریب یہ حملہ کیا ہے، یہ گاڑی ان بے گھر افراد کو لے کر جا رہی تھی جو ڈبیکر کے علاقے میں لڑائی کے دوران علاقے سے نکلے تھے، مرنے والوں میں دو شیر خوار شامل ہیں، حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے انہیں علاج کے لیے الراھد میں ہسپتال لے جایا گیا جو کردفان کے دیگر علاقوں کی طرح طبی سامان کی شدید قلت سے دوچار ہے۔
ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کےلیے فوری اقدامات کریں اور ریپڈ سپورٹ فورسز کی قیادت کو براہ راست ان خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔
ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے اس وقعہ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جو تقریبا تین سال سے ملک کے کنٹرول کے لیے سوڈانی فوج کے خلاف جنگ کررہی ہے۔
یاد رہے کہ سوڈان اپریل 2023 میں اس وقت افرا تفری کا شکار ہوا جب سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان طاقت کے حصول کی کشمکش دارالحکومت خرطوم اور ملک کے دیگر مقامات پر باقاعدہ جنگ میں بدل گئی جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افررد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریپڈ سپورٹ فورسز
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔