لاہور میں بسنت فیسٹیول: 3 روز میں 9 لاکھ گاڑیوں کی انٹری اور 14 لاکھ مسافروں کا مفت سفر
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور میں بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہریوں اور سیاحوں کی غیر معمولی آمدورفت دیکھنے میں آئی۔ 3 روز کے دوران لاہور میں 9 لاکھ گاڑیوں کی انٹری کا ریکارڈ قائم ہوا جبکہ اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹروبس، فیڈر بس، الیکٹروبس اور دیگر سرکاری بسوں پر 2 روز میں قریباً 14 لاکھ مسافروں نے مفت سفر کرکے نیا ریکارڈ بنا دیا۔
بسنت فیسٹیول کے انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات کے جائزے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ نگرانی خصوصی ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے بسنت کی 2 روزہ رپورٹ پیش کی۔
مزید پڑھیں: لاہوریوں کے لیے بڑی خوشخبری، بسنت فیسٹیول کے اوقات میں توسیع
اجلاس میں ہوم سیکریٹری احمد جاوید قاضی، کمشنر، محکمہ صحت، پی ایچ اے، پولیس اور سیکیورٹی حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کے انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہاکہ آج بسنت میلے کا آخری روز ہے اور رات کو پتنگ بازی بند کردی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیاکہ 3 روزہ بسنت فیسٹیول کے اختتام کے بعد پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔
دو امریکی لاہور آ کر بسنت منائیں، یہ واقعی ثقافتی تبادلے کی خوبصورت مثال ہے۔ بسنت کی رنگین پتنگیں، چھتوں پر جشن، اور لاہور کی روایتی مہمان نوازی سب کچھ مل کر ایک یادگار تجربہ بن جاتا ہے۔ ❤️@MaryamNSharif pic.
— Samina Kauser Swl (@Skpmln) February 8, 2026
وزیراعلیٰ نے بسنت فیسٹیول کے دوران لاہور کے شہریوں کے تعاون کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا اور آخری روز بھی پتنگ بازی کے ایس او پیز اور قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پر جمعہ کے روز 2 لاکھ 99 ہزار اور ہفتے کے روز 3 لاکھ 5 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا، یوں دو روز میں مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد مسافروں نے اورنج لائن سے فائدہ اٹھایا۔ میٹروبس پر جمعہ کو ایک لاکھ 43 ہزار اور ہفتے کو ایک لاکھ 35 ہزار، مجموعی طور پر 2 لاکھ 78 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔
’سپیڈو فیڈر بسوں پر جمعہ کو ایک لاکھ 74 ہزار اور ہفتے کو ایک لاکھ 82 ہزار، مجموعی طور پر 3 لاکھ 57 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔ الیکٹروبس فیڈر روٹس پر جمعہ اور ہفتے کو 15،15 ہزار، مجموعی طور پر 30 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔‘
حکام کے مطابق ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے تحت فراہم کردہ بسوں پر جمعہ اور ہفتے کو 30،30 ہزار، مجموعی طور پر 60 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔
اسی طرح گرین الیکٹرو بسوں پر جمعہ کو 25 ہزار اور ہفتے کو 27 ہزار، مجموعی طور پر 52 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور میں عوام کے مفت سفر کے لیے 419 بسیں آخری دن بھی دستیاب ہیں اور بسنت کے موقع پر عوام کو فری رائیڈز دی جا رہی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین آج رات تک مسافروں کو مفت سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہے جبکہ آج بھی میٹروبس، فیڈر بسیں اور گرین بسیں فری ٹریول کی سہولت مہیا کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور میں بسنت فیسٹیول کی دھوم، آسمان پر ستاروں کی جگہ رنگ برنگی پتنگوں نے لے لی
اس کے علاوہ آج بھی 6 ہزار Yango رکشوں پر حکومت کی جانب سے فری رائیڈز دی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بسنت فیسٹیول کے آخری روز بھی حفاظتی اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور مقررہ سائز اور اسٹینڈرڈ کے مطابق ہی پتنگ اور ڈور کا استعمال کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بسنت فیسٹیول ریکارڈ لاہور مریم نواز مفت سفر وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بسنت فیسٹیول ریکارڈ لاہور مریم نواز مفت سفر وی نیوز ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا بسنت فیسٹیول کے ہزار اور ہفتے اور ہفتے کو کو ایک لاکھ اورنج لائن لاہور میں کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔