چین میں جدید انسان نما اے آئی روبوٹ ’مویا‘ متعارف، انسانی احساس اور جذبات سے لیس
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
چین کے شہر شنگھائی میں قائم روبوٹکس اسٹارٹ اپ DroidUp نے دنیا کا پہلا بایومیمیٹک انسان نما اے آئی روبوٹ ’مویا‘ متعارف کرا دیا ہے، جسے انسانی خدوخال، حرکات اور جذباتی تاثر کے قریب تر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق مویا کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ انسانوں سے مشابہ دکھائی دے۔ اس میں حقیقت سے قریب جلد کی بناوٹ، انسانی انداز میں چلنے کی صلاحیت، چہرے کی شناخت اور جدید مصنوعی ذہانت کے فیچرز شامل ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اس روبوٹ کو صحت، تعلیم اور کسٹمر سروس جیسے شعبوں میں عوامی رابطے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
مویا کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت اس کی گرم جلد ہے، جو عام دھاتی اور ٹھنڈے روبوٹس سے بالکل مختلف ہے۔ کمپنی کے مطابق روبوٹ کے جسم کا درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جاتا ہے تاکہ لمس کے دوران انسانی احساس پیدا ہو سکے۔
کمپنی کے بانی لی چنگدو کا کہنا ہے کہ جو روبوٹ انسانوں کی مدد کے لیے بنائے جاتے ہیں، انہیں بے جان محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ مویا کی آنکھوں کی جگہ کیمرے نصب ہیں جو چہروں اور حرکات کو ٹریک کر سکتے ہیں، جبکہ یہ روبوٹ معمولی چہرے کے تاثرات (مائیکرو ایکسپریشنز) بھی ظاہر کر سکتی ہے اور اپنے اندرونی اے آئی سسٹم کے ذریعے قدرتی انداز میں ردِعمل دیتی ہے۔
کمپنی مویا کو ایک مکمل بایومیمیٹک ایمبوڈیڈ انٹیلیجنٹ روبوٹ قرار دیتی ہے۔ یہ روبوٹ اندرونی اسکلٹن سسٹم ’واکر 3‘ پر مبنی ہے، جو پہلے ماڈلز کی بنیاد پر تیار کیا گیا اور روبوٹکس مقابلوں میں اپنی کارکردگی دکھا چکا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مویا کی چلنے کی درستگی 92 فیصد ہے، تاہم دیگر تکنیکی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں لائی گئیں۔
مویا کی متوقع قیمت تقریباً 12 لاکھ چینی یوان (تقریباً 1 لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ) بتائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس روبوٹ کے حوالے سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد اسے حیران کن ٹیکنالوجی قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے غیر معمولی اور قدرے خوفناک بھی کہہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ چین میں حال ہی میں دنیا کا پہلا ’ہیومینائیڈ روبوٹ مال‘ بھی کھولا گیا ہے، جو روبوٹ ٹیکنالوجی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مویا کی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔