اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے اور قومی اتفاق رائے سے اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچا اور تمام اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں.
مگر صوبے اب یہ اختیارات نچلی سطح پر ڈسٹرکٹ اور تحصیلوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے تمام سیاسی قوتوں کو دعوت دی کہ وزیراعظم کے "میثاقِ استحکامِ پاکستان” کے وژن کے تحت مل بیٹھ کر بات کریں، کیونکہ پاکستان مضبوط
ہوگا تو ہی تمام صوبے مضبوط ہوں گے۔بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب تک بحران کا درست ادراک نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہوگا. دہشت گردی اور لاپتہ افراد کا معاملہ ایک ساتھ شروع ہوا اور ایک ساتھ ہی ختم ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے اور پلوں کو اڑانے والے نجات دہندہ نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس مسئلے کا حل وہی ہے جو ریاست نے معرکہ حق میں اپنایا۔رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں مگر بات ٹیبل پر ہوگی، سڑکوں پر احتجاج سے نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم کے میثاق استحکام پاکستان کے تحت تمام اکائیوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا کیونکہ پاکستان کی مضبوطی میں ہی بلوچستان سمیت تمام صوبوں کی بقا ہے۔رانا ثنااللہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میاں نواز شریف ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی کارکردگی سے مطمئن تھے اور ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی انہیں ہٹانا نہیں چاہتے تھے۔رانا ثنااللہ نے حالیہ پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اس قدر سفاک ہو چکے ہیں کہ بسوں سے اتار کر شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور ایک ایک شخص پر 100، 100 گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گوادر میں 24 سے زائد بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کے سانحے پر بھارتی میڈیا میں جشن کا سماں تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے. قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کارروائی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ:
رانا ثنااللہ نے
وزیراعظم کے
انہوں نے
کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔