اٹلی ونٹر اولمپکس میں اولمپک تاریخ کے مہنگے ترین میڈلز پیش کیے جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اٹلی میں جاری ونٹر اولمپکس میں پوڈیم پر آنے والے کھلاڑیوں کو اولمپک تاریخ کے سب سے مہنگے میڈلز دیے جائیں گے۔ یہ مہنگائی اس لیے نہیں کہ تمغوں کا وزن زیادہ ہے، بلکہ حالیہ برسوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس کی وجہ ہے۔
اس کھیل کے دوران اسکیئنگ، آئس ہاکی، فگر اسکیٹنگ اور کرلنگ سمیت مختلف مقابلوں میں حصہ لینے والے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 700 سے زائد سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے دیے جائیں گے۔ مالی لحاظ سے یہ تمغے پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں، جبکہ ان کی جذباتی اہمیت ہمیشہ بے مثال رہے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق جولائی 2024 کے بعد سے سونے کی قیمت تقریباً 107 فیصد اور چاندی کی قیمت 200 فیصد بڑھ چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب ایک سونے کے تمغے کی قیمت تقریباً 2,300 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو پیرس اولمپکس کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ چاندی کے تمغے کی مالیت تقریباً 1,400 ڈالر تک ہو گئی ہے، جو دو سال قبل کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک گولڈ میڈل کا مجموعی وزن 506 گرام ہوتا ہے لیکن اس میں صرف 6 گرام خالص سونا شامل ہوتا ہے، جبکہ باقی وزن چاندی کا ہوتا ہے۔ کانسی کے تمغے عام طور پر تانبے سے بنائے جاتے ہیں اور 420 گرام وزنی یہ تمغے صرف تقریباً 5.
سونے کی قیمت میں اضافہ بڑے مرکزی بینکوں کے ذخائر بڑھانے اور عالمی سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہوا، جبکہ چاندی میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی ایک بڑی وجہ بنی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ 2028 کے سمر اولمپکس کے لیے تیار کیے جانے والے سونے اور چاندی کے تمغے اس ونٹر اولمپکس کے مقابلے میں مزید مہنگے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔