خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ایکٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ پولیس ایکٹ کو کالعدم قرار دینا آئینِ پاکستان کے دیباچے کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے پولیس ایکٹ سے متعلق فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ پولیس ایکٹ کو کالعدم قرار دینا آئینِ پاکستان کے دیباچے کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کرتا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ اس غیر آئینی فیصلے کے خلاف آئین کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی اس فیصلے کو عدالتی اختیارات سے تجاوز، آئینی حدود کی پامالی اور جمہوری نظام پر براہِ راست حملہ قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ غیرآئینی، غیرقانونی اور یکطرفہ طور پر دیا گیا ہے، درخواست میں جن کو فریق بنایا گیا اُن سے جواب طلب نہیں کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیڈرل آئینی عدالت میں چیلنج کریں گے، عدلیہ کا کام انتظامیہ کے پالیسی معاملات میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کے پی پولیس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے ذریعے کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کی ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ 2024 کی ترامیم کے تحت سینئر پولیس افسران (بی ایس 18 اور اس سے زائد) کی تعیناتیوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی پیشہ ورانہ اور عملی خودمختاری کو غیر آئینی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں پولیس کو قانون کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا آلہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو آئین کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کو پولیس پر صرف محدود نوعیت کی ’نگرانی‘ حاصل ہے، جس کا دائرہ کار پالیسی سازی اور عمومی نگرانی تک محدود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔