ڈرائیور کے بغیر ٹیکسی سروس کی آئندہ ماہ سڑکوں پر آنے کی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: ڈرائیور لیس ٹیکسی سروس کا باضابطہ آغاز آئندہ ماہ مارچ سے کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان دبئی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے کیا۔
دبئی میں جدید شہری سفری سہولتوں کے فروغ کے تحت جدید خودکار ٹیکنالوجی سے چلنے والی ٹیکسیاں شہر کی مختلف سڑکوں پر آزمائشی اور عملی طور پر چلائی جائیں گی، جس کا مقصد شہری ٹرانسپورٹ کو مزید محفوظ، تیز اور ماحول دوست بنانا ہے۔
میڈیاذرائع کے مطابق ڈرائیور لیس ٹیکنالوجی مستقبل کے شہری سفر کا اہم حصہ بن رہی ہے، جس سے ٹریفک کے مسائل میں کمی، ایندھن کے بہتر استعمال اور حادثات کی شرح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دبئی مستقبل کی اسمارٹ ٹرانسپورٹ سہولتوں کے فروغ کے لیے مسلسل جدید منصوبے متعارف کروا رہا ہے، اور توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں خودکار گاڑیوں کا استعمال شہری سفر کا معمول بن جائے گا، جس سے روزمرہ سفر مزید آسان اور محفوظ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔