ڈرائیور کے بغیر ٹیکسی سروس کی آئندہ ماہ سڑکوں پر آنے کی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: ڈرائیور لیس ٹیکسی سروس کا باضابطہ آغاز آئندہ ماہ مارچ سے کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان دبئی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے کیا۔
دبئی میں جدید شہری سفری سہولتوں کے فروغ کے تحت جدید خودکار ٹیکنالوجی سے چلنے والی ٹیکسیاں شہر کی مختلف سڑکوں پر آزمائشی اور عملی طور پر چلائی جائیں گی، جس کا مقصد شہری ٹرانسپورٹ کو مزید محفوظ، تیز اور ماحول دوست بنانا ہے۔
میڈیاذرائع کے مطابق ڈرائیور لیس ٹیکنالوجی مستقبل کے شہری سفر کا اہم حصہ بن رہی ہے، جس سے ٹریفک کے مسائل میں کمی، ایندھن کے بہتر استعمال اور حادثات کی شرح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دبئی مستقبل کی اسمارٹ ٹرانسپورٹ سہولتوں کے فروغ کے لیے مسلسل جدید منصوبے متعارف کروا رہا ہے، اور توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں خودکار گاڑیوں کا استعمال شہری سفر کا معمول بن جائے گا، جس سے روزمرہ سفر مزید آسان اور محفوظ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔