جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغان پالیسی اور خارجہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں، اگر دہشت گرد آرہے تو ان کو ماردیں کس نے روکا ہے۔

راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ8فروری کو دو سال پہلے اسی دن ملک میں مرکزی انتخابات ہوئے جو نتیجہ سامنے آیا اس کو مسترد کردیا گیا اور جعلی قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج جو حکومت کررہے ہیں جعلی مینڈیٹ پر حکومت کررہے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ایسی حکومت کا حصہ نہیں ہوسکتی تھی اسی لیے اپوزیشن میں ہیں، اگر ہمارا تعلق جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہے تو یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ہے یہ تاثر غلط ہے بلکہ یہ سفر کا حصہ ہوتا ہے منزل پر پہنچنے کا نام ہوتا ہے، حکومت آج بھی ہے بنائی نہیں گئی بلکہ کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکایا گیا ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت اور سیاست کا مذاق ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ اکثریت حاصل کریں دل سے احترام کریں گے، ہماری جنگ کہ آئین کے ساتھ ہے کہ کسی اور سے لیکن قوم کسی کو مینڈیٹ دیتی ہے تو اس کا احترام ہے لیکن یہاں کس طرح جھرلو پھیرا گیا، الیکشن کمیشن کو چلینج کرتا ہون الیکشن کمیشن کو ایک حلقے کا بھی نتیجہ معلوم نہیں تھا باہر سے آتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کٹ پتلی الیکشن کمیشن ہے، جمعیت علمائے اسلام اس جھرلو الیکشن کو قبول نہیں کرتی، جمعیت علمائے اسلام الزام تراشیوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ حقائق پر بات کرتی ہے، ہماری روش میں اعتدال اور دلیل ہے، اس بنیاد پر قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ساری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین پر کیا گزری غزہ کے مسلمانوں پر کیا گزری، تین سال ہوگئے ان پر آگ کی بارش ہو رہی ہے شہر کے شہر مٹ گئے، 70 ہزار سے زائد مسلمان بھائی شہید ہوچکے، ایک لاکھ سے زائد لوگ اپنی زندگیاں ہار چکے، ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب ہوگیا جو صہیونی روش جس کی پشت پر امریکا ہے، ظلم کی مدد امریکا نے کی، بم اور ڈالر ان کے ہیں، دنیا اس کو نسل کشی کہتی ہے اور ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے ٹرم کو نوبل انعام ملنا چاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی عقل مندی پر رونا آتا ہے نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اگر ہم نے روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج وہی ٹرمپ غزہ کے لیے امن کا پلان لایا، یورپی ممالک حصہ نہیں بن رہے ہیں، امن بورڈ کے اندر نیتن یاہو شامل ہے، انسانیت کا قتل مسلمانوں کا قاتل وہ بھی بورڈ میں ہو تو ایسے بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کہتا ہے اقوام متحدہ میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، تو اسمبلی میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا بائیکاٹ کیا گیا اور آج آپ بورڈ میں اس کا کردار مان رہے ہیں، شہباز شریف کاغذ پر دستخط کرتے ہیں تو ہنس کر دکھاتے ہیں۔

 

آج چین ہم سے ناراض ہے

ان کا کہنا تھا کہ چین کی دوستی بارے کیا کیا کچھ کہتے ہیں اور اس نے ہم پر اعتماد کیا ہے، عالمی تجارتی شاہراہ کے لیے پاکستان کو چنا، ان کو بھی شکایت تھی ہمیں بھی تھی کہ عمران خان کی حکومت میں میگا پراجیکٹ روک دیے، آج ان سے بھی پوچھ لیں کہ کیا اس دور میں کوئی ایک اینٹ آگے لگی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین کی امید تھی کہ پی ڈی ایم کے لوگ آئیں گے تو بہتری ہوگی لیکن آج وہ پاکستان سے ناراض ہیں، یہ سمجھتے ہیں پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن انہوں نے بیڑا غرق کردیا۔

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آر ہے ہیں

افغانستان سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی سوال کرتا ہے کہ ظاہر شاہ سے لے کر امارات اسلامیہ تک کیوں پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکے، کبھی سوچا ہے 78 سال سے افغان اور خارجہ پالیسی کیوں ناکام ہے، اگر وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں تو مارو، ایک انار وہاں سے نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مغربی سرحدوں پر کیا صورت حال ہے، ایک جرنیل آتا ہے اور کہتا ہے لڑنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے مذاکرات کرنے ہیں، پھر کوئی اور آئے گا تو دوسری پالیسی دے گا۔

یہاں کسی حکومت کی رٹ نہیں

انہوں نے کہا کہ یہاں بھی مسجد میں نمازیوں کو تڑپایا گیا، مطلب یہ ہے کوئی حکومت نہیں آسکی کوئی رٹ نہیں، بیانیہ تیار کرنے والے ایسا بیانیہ تراشتے ہیں کہ کیا بات ہے، اچھے جملے ہمیں بولنے آتے ہیں جرات آپ سے زیادہ ہمارے پاس بھی ہے، آپ جرات دکھائیں تو سہی بھارت کے خلاف دکھائی قوم ساتھ کھڑی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے لوگ باہر جارہے ہیں، کئی سال سے اہم اشاریوں کی بات کرتے ہین لیکن اصل میں ہم نیچے جارہے ہیں خطے میں لوگ آگے ہیں، نہ اقتصاد بہتر ہے نہ امن اور ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہے، قانون سازی ہوتی تو اپنی اتھارٹی مضبوط کرنے لگے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم ہوئی ایک مہینہ ایک ہفتہ مذاکرات کیے، ان کے نتیجے میں 34 شقوں سے باز کرایا اور ہم نے ترامیم شامل کی۔

یکم جنوری 2028 تک سود کا خاتمہ ہوگا کیا پیشرفت ہوئی؟

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ یکم جنوری 2028 تک سود کا خاتمہ کرلیا جائے گا، کیا پیش رفت ہوئی حکومت کیا بتا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی ایک سفارش پر پارلیمان میں بحث نہیں ہوئی، ان نیتوں کے ساتھ آپ مذاکرات و آئین میں ترمیم کرتے ہیں تو کون آپ پر اعتماد کرے گا، سیاست میں سنجیدگی ہونی چاہیے، 27 ویں ترمیم آگئی، ایک سال کے اندر آپ کی اکثریت پوری ہوگئی یہ کہاں سے پوری ہوئی مطلب اراکین کے ہاتھ موڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت تاحیات کوئی مقدمہ درج نہ ہوسکے گا، آصف علی زرداری دوست ہے، خوش قسمتی سے صدر ہے، ان کو جیلوں میں کیونکر رکھا تھا اب وہ تاحیات استثنیٰ لیں گے، نبی اکرم محمد ﷺ نے خود کو استثنیٰ نہیں دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 8 فروری الیکشن کے نتائج ہیں، اس حکمرانی کی شکل میں یہ سب کچھ سامنے آرہا ہے، خارجہ پالیسی اقتصادی پالیسی ناکام ہر کام ناکام، آپ سمجھتے ہیں ہم آپ اس ناجائز کام میں ساتھ دیں گے بالکل بھی نہیں، ہاں اچھے کام میں ضرور ساتھ دیں گے لیکن وہ کرو تو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد جمعیت علمائے اسلام ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ایک انار کہتا ہے رہے ہیں کے ساتھ ہے ہیں

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار