افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغان پالیسی اور خارجہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں، اگر دہشت گرد آرہے تو ان کو ماردیں کس نے روکا ہے۔
راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ8فروری کو دو سال پہلے اسی دن ملک میں مرکزی انتخابات ہوئے جو نتیجہ سامنے آیا اس کو مسترد کردیا گیا اور جعلی قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جو حکومت کررہے ہیں جعلی مینڈیٹ پر حکومت کررہے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ایسی حکومت کا حصہ نہیں ہوسکتی تھی اسی لیے اپوزیشن میں ہیں، اگر ہمارا تعلق جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہے تو یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ہے یہ تاثر غلط ہے بلکہ یہ سفر کا حصہ ہوتا ہے منزل پر پہنچنے کا نام ہوتا ہے، حکومت آج بھی ہے بنائی نہیں گئی بلکہ کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکایا گیا ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت اور سیاست کا مذاق ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ اکثریت حاصل کریں دل سے احترام کریں گے، ہماری جنگ کہ آئین کے ساتھ ہے کہ کسی اور سے لیکن قوم کسی کو مینڈیٹ دیتی ہے تو اس کا احترام ہے لیکن یہاں کس طرح جھرلو پھیرا گیا، الیکشن کمیشن کو چلینج کرتا ہون الیکشن کمیشن کو ایک حلقے کا بھی نتیجہ معلوم نہیں تھا باہر سے آتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کٹ پتلی الیکشن کمیشن ہے، جمعیت علمائے اسلام اس جھرلو الیکشن کو قبول نہیں کرتی، جمعیت علمائے اسلام الزام تراشیوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ حقائق پر بات کرتی ہے، ہماری روش میں اعتدال اور دلیل ہے، اس بنیاد پر قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
‘نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے’
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ساری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین پر کیا گزری غزہ کے مسلمانوں پر کیا گزری، تین سال ہوگئے ان پر آگ کی بارش ہو رہی ہے شہر کے شہر مٹ گئے، 70 ہزار سے زائد مسلمان بھائی شہید ہوچکے، ایک لاکھ سے زائد لوگ اپنی زندگیاں ہار چکے، ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب ہوگیا جو صہیونی روش جس کی پشت پر امریکا ہے، ظلم کی مدد امریکا نے کی، بم اور ڈالر ان کے ہیں، دنیا اس کو نسل کشی کہتی ہے اور ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے ٹرم کو نوبل انعام ملنا چاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی عقل مندی پر رونا آتا ہے نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اگر ہم نے روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج وہی ٹرمپ غزہ کے لیے امن کا پلان لایا، یورپی ممالک حصہ نہیں بن رہے ہیں، امن بورڈ کے اندر نیتن یاہو شامل ہے، انسانیت کا قتل مسلمانوں کا قاتل وہ بھی بورڈ میں ہو تو ایسے بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک کہتا ہے اقوام متحدہ میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، تو اسمبلی میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا بائیکاٹ کیا گیا اور آج آپ بورڈ میں اس کا کردار مان رہے ہیں، شہباز شریف کاغذ پر دستخط کرتے ہیں تو ہنس کر دکھاتے ہیں۔
‘آج چین ہم سے ناراض ہے’
ان کا کہنا تھا کہ چین کی دوستی بارے کیا کیا کچھ کہتے ہیں اور اس نے ہم پر اعتماد کیا ہے، عالمی تجارتی شاہراہ کے لیے پاکستان کو چنا، ان کو بھی شکایت تھی ہمیں بھی تھی کہ عمران خان کی حکومت میں میگا پراجیکٹ روک دیے، آج ان سے بھی پوچھ لیں کہ کیا اس دور میں کوئی ایک اینٹ آگے لگی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین کی امید تھی کہ پی ڈی ایم کے لوگ آئیں گے تو بہتری ہوگی لیکن آج وہ پاکستان سے ناراض ہیں، یہ سمجھتے ہیں پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن انہوں نے بیڑا غرق کردیا۔
‘افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آر ہے ہیں’
افغانستان سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی سوال کرتا ہے کہ ظاہر شاہ سے لے کر امارات اسلامیہ تک کیوں پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکے، کبھی سوچا ہے 78 سال سے افغان اور خارجہ پالیسی کیوں ناکام ہے، اگر وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں تو مارو، ایک انار وہاں سے نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مغربی سرحدوں پر کیا صورت حال ہے، ایک جرنیل آتا ہے اور کہتا ہے لڑنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے مذاکرات کرنے ہیں، پھر کوئی اور آئے گا تو دوسری پالیسی دے گا۔
‘یہاں کسی حکومت کی رٹ نہیں’
انہوں نے کہا کہ یہاں بھی مسجد میں نمازیوں کو تڑپایا گیا، مطلب یہ ہے کوئی حکومت نہیں آسکی کوئی رٹ نہیں، بیانیہ تیار کرنے والے ایسا بیانیہ تراشتے ہیں کہ کیا بات ہے، اچھے جملے ہمیں بولنے آتے ہیں جرات آپ سے زیادہ ہمارے پاس بھی ہے، آپ جرات دکھائیں تو سہی بھارت کے خلاف دکھائی قوم ساتھ کھڑی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے لوگ باہر جارہے ہیں، کئی سال سے اہم اشاریوں کی بات کرتے ہین لیکن اصل میں ہم نیچے جارہے ہیں خطے میں لوگ آگے ہیں، نہ اقتصاد بہتر ہے نہ امن اور ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہے، قانون سازی ہوتی تو اپنی اتھارٹی مضبوط کرنے لگے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم ہوئی ایک مہینہ ایک ہفتہ مذاکرات کیے، ان کے نتیجے میں 34 شقوں سے باز کرایا اور ہم نے ترامیم شامل کی۔
‘یکم جنوری 2028 تک سود کا خاتمہ ہوگا کیا پیشرفت ہوئی؟’
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ یکم جنوری 2028 تک سود کا خاتمہ کرلیا جائے گا، کیا پیش رفت ہوئی حکومت کیا بتا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی ایک سفارش پر پارلیمان میں بحث نہیں ہوئی، ان نیتوں کے ساتھ آپ مذاکرات و آئین میں ترمیم کرتے ہیں تو کون آپ پر اعتماد کرے گا، سیاست میں سنجیدگی ہونی چاہیے، 27 ویں ترمیم آگئی، ایک سال کے اندر آپ کی اکثریت پوری ہوگئی یہ کہاں سے پوری ہوئی مطلب اراکین کے ہاتھ موڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت تاحیات کوئی مقدمہ درج نہ ہوسکے گا، آصف علی زرداری دوست ہے، خوش قسمتی سے صدر ہے، ان کو جیلوں میں کیونکر رکھا تھا اب وہ تاحیات استثنیٰ لیں گے، نبی اکرم محمد ﷺ نے خود کو استثنیٰ نہیں دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 8 فروری الیکشن کے نتائج ہیں، اس حکمرانی کی شکل میں یہ سب کچھ سامنے آرہا ہے، خارجہ پالیسی اقتصادی پالیسی ناکام ہر کام ناکام، آپ سمجھتے ہیں ہم آپ اس ناجائز کام میں ساتھ دیں گے بالکل بھی نہیں، ہاں اچھے کام میں ضرور ساتھ دیں گے لیکن وہ کرو تو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد جمعیت علمائے اسلام ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ایک انار کہتا ہے رہے ہیں کے ساتھ ہے ہیں
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔