روسی ملٹری انٹیلیجنس کے نائب سربراہ پر حملے کا ملزم دبئی سے ماسکو منتقل، یوکرین پر الزام
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ماسکو: روس کی ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی (جی آر یو) کے نائب سربراہ پر قاتلانہ حملے کے شبہے میں گرفتار ایک شخص کو دبئی سے ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ روس نے حملے کے پیچھے یوکرین کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین میں پیدا ہونے والے روسی شہری لیوبومیر کوربا کو متحدہ عرب امارات سے روس کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس پر جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر فائرنگ کرنے کا شبہ ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق 64 سالہ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو میں واقع ایک اپارٹمنٹ بلاک کے قریب سائلنسر لگے ماکاروف پستول سے تین گولیاں ماری گئیں۔ زخمی جنرل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا اور ان کی جان بچا لی گئی۔
روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے بیان میں کہا ہے کہ ملزم کو دبئی میں گرفتار کیا گیا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسے یوکرینی خفیہ اداروں کی جانب سے حملے کا ٹاسک دیا گیا تھا،یوکرین نے روس کے اس الزام کی تردید کر دی ہے۔
روسی حکام کے مطابق کیس میں دو مزید معاون ملزمان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک وکٹر واسن، کو ماسکو سے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری مشتبہ خاتون زینائدا سیریبریتسکایا فرار ہو کر یوکرین چلی گئی ہے۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر متحدہ عرب امارات کی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق صدر پیوٹن نے ٹیلیفونک رابطے میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق کیا گیا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔