ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کو پیغام
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے، عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، اسکی روش سے اختلاف کیا تھا لیکن آپ تو اس سے دو قدم آگے جارہے ہیں، ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے۔
یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اور انتخابات کے نتائج تیار کرنے کی بجائے باہر سے آنے والے نتائج پر عمل کیا جا رہا ہے، ایک حلقے کے نتائج بھی الیکشن کمیشن نے خود تیار نہیں کیے اور ایسا کٹھ پتلی کمیشن دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ دو سال قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا گیا تھا، مگر آج اسی جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔
اگلا پروگرام درّہ خیبر کا تھا، سنگل ریل کی پٹری کا سفر کافی دلچسپ تھا، ہاتھوں میں کلاشنکوفیں پکڑے پٹھان دھڑلے سے ریل میں داخل ہوتے
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہے، موجودہ حکومت عوامی طاقت کے بجائے جوڑ توڑ کے ذریعے وجود میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، اسکی روش سے اختلاف کیا تھا لیکن آپ تو اس سے دو قدم آگے جارہے ہیں، ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی عوامی مفاد اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرے گی اور عوام کو درست رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ ملک میں شفافیت اور عدلیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنا مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور جمہوری نظام کی مضبوطی ان کا اصل مقصد ہے۔
منگتے کبھی بھی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے،ملک کی بہتری تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا، جمہوریت کی کہانی نا خوشگوار رہی ہے
انہوں نے کہا کہ کب تک خوبصورت الفاظ اور دلکش جملوں سے عوام کو بہلایا جاتا رہےگا۔ ہمارے لوگ اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ملکی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے اور پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی بھی اس تاثر کو مضبوط کر رہی ہےکہ طاقتور قوتیں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کےلیے قوانین بنارہی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ دو قدم آگے سے اختلاف رہی ہے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔