فائل فوٹو

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی-ف) سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قانون سازی کے باوجود اداروں میں سود کے خاتمے پر کام شروع نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں جے یو آئی یوتھ کنونشن میں مولانا فضل الرحمان نے مسجد خدیجہ الکبریٰ کے شہداء کےلیے دعا مغفرت کروائی۔

تقریب سے خطاب میں جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ سیاسی معاہدوں میں سنجیدگی ہونی چاہیے، یکم جنوری 2028 ء سے ملک میں سود کے خاتمےکی قانون سازی ہوئی ہے جبکہ اداروں کے اندر سود کے خاتمے کے لیے کام شروع نہیں کیا گیا۔

بلاول بھٹو، فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بیٹھک

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی، ف) سربراہ مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بیٹھک لگ گئی۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے نتائج معاشی اور سیکیورٹی ناکامی کی شکل میں سامنے آرہے ہیں، ایک سال میں پارلیمنٹ میں کیسے دو تھائی اکثریت حاصل کی گئی؟

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بتایا جائے کہ آصف علی زرداری کو 15 سال کس جرم میں جیل میں رکھا گیا تھا؟ اب صدر پاکستان کو تاحیات استثنیٰ دیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کے مقابلے میں آپ نے جرات دکھائی ہم آپ کے ساتھ تھے، پاکستانی کی محنت اور پیسہ باہر انویسٹ ہو رہا ہے جبکہ ملک میں کاروبار ختم ہو رہا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے دوست ملک نے عالمی تجارت کے لیے پاکستان کو چُنا، ہمیں شکایت تھی کہ پی ٹی آئی حکومت میں سی پیک منصوبہ روکا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں بھی ایک اینٹ کا اضافہ نہیں ہوا، ہم محض الزام تراشی کی سیاست نہیں کرتے، ہماری روش میں اعتدال اور دلیل ہے، انتہا پسندی نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیلنج کرتا ہوں الیکشن کمیشن کو نتائج کا علم نہیں تھا، وہ کٹھ پتلی ہے، یہاں نتائج باہر سے آتے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج سے 2 سال قبل اسی روز ملک میں الیکشن ہوئے، ملک بھر میں الیکشن نتائج کو جعلی قرار دے کر قوم نے مسترد کیا۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ جعلی منڈیٹ کے ذریعے جعلی حکومت بنائی گئی، ہماری جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی، ہم آئین اور قانون کے محافظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں حکومت میں پہنچنا سفر کا حصہ ہے منزل نہیں ہے، موجودہ حکومت جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، آپ شفاف طریقے سے حکومت بنا لیں ہم ضرور قبول کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین اور غزہ کی سرزمین کس کرب سے گزری، 80 ہزار سے زائد پُرامن مسلمان شہید ہوچکے ہیں، 1 لاکھ سے زائد لوگ بھوک کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وحشیانہ صہیونی کارروائی کی پشت پر امریکا ہے، اس نسل کشی میں امریکا کا اسلحہ اور ڈالر استعمال ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے جے یو ا ئی نے کہا کہ سود کے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی