پاک بھارت میچ پر آخری گیند وزیر اعظم کے ہاتھ، محسن نقوی کی وزیراعظم سے ملاقات جلد متوقع
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کے بھارت سے میچ نہ کھیلنے کے حوالے سے آئی سی سی کی درخواست پر چیئرمین پی سی بی نے وزیر اعظم سے دوبارہ رابطے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے آئندہ ایک دو روز میں ملاقات متوقع ہے، محسن نقوی آئی سی سی کی درخوست پر وزیراعظم سے ہدایات لیں گے۔ذرائع کے کہنا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ میچ سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم شہبازشریف کریں گے۔یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی ہدایت پر پی سی بی نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے اور بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔خیال رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت سے میچ کھلانےکے لیے منانے کی کوششیں جاری ہیں۔اس حوالے سے لاہور میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان مذاکرات 3گھنٹے سے زائد وقت سے جاری ہیں جن میں چیئرمین پی سی بی کا فوکس بنگلادیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو جواب دیا ہےکہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنےکا فیصلہ حکومت کا ہے اور بھارت کے خلاف میچ کھیلنےکا فیصلہ بھی حکومت ہی کرےگی۔آج بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات میں بنگلادیش کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا فیصلہ ذرائع کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :