فوجی آپریشن حل نہیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلیے سیاسی اتفاق ضروری ہے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور بدامنی کے مسائل کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ قومی سطح پر مشاورت اور سیاسی اتفاق رائے میں ہے، حکومت کو چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر جامع حکمت عملی تیار کرے۔
منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے تین روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر تشویشناک ہے جبکہ موجودہ حالات میں اندرونی اور بیرونی دونوں عناصر ملک میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے عام انتخابات کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن یہ انتخابات دھاندلی زدہ تھے، جس کے باعث موجودہ حکومت عوامی تائید سے محروم ہے اور ریاستی رِٹ کمزور دکھائی دے رہی ہے، مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی و سماجی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور ایسی پالیسی اختیار کی جائے جو دیرپا امن کا باعث بنے، خیبرپختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور مقامی آبادی کی نقل مکانی سے دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن بورڈ میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کی مخالفت کرے گی، ماضی میں بھی امریکا کی پالیسیوں کی حمایت نے ملک کو نقصان پہنچایا اور موجودہ حکمران اسی راستے پر گامزن نظر آتے ہیں۔
انہوں نے فلسطین کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی پالیسی قابلِ تحسین ہے اور اسلامی تحریکوں کو اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
دریں اثنا جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد آئی پی پیز کے خلاف دوبارہ ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کے لیے تنظیمی سطح پر تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جماعت اسلامی حافظ نعیم
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔