بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور بی این پی کے حامیوں میں جھڑپیں، 50 سے زیادہ افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے حامیوں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 50 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے 25 افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیاسی بنیادوں پر قائم 23 ہزار سے زائد مقدمات واپس لینے کا فیصلہ
تشدد اس وقت شروع ہوا جب جماعت اسلامی کے امیدوار شفیق الاسلام کی انتخابی ریلی پر بی این پی کے کارکنوں نے حملہ کردیا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق 40 سے 50 افراد نے مسلح ہو کر ریلی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
’ابتدائی جھڑپ میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں دونوں فریقین کے درمیان جوابی حملوں اور تعاقب سے مزید تشدد ہوا، جس سے مزید کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔‘
زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر جماعت کے حامی اور مقامی جماعتی رہنما شامل تھے۔
دوسری جانب بی این پی سے منسلک رہنماؤں نے الزامات کی تردید کی اور کہاکہ ان کے حامیوں نے حملہ نہیں کیا۔
جماعتی رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے حریف ووٹروں کو دھمکانے اور منصفانہ انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پولیس نے ان واقعات کی تصدیق کی اور کہاکہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے انتخابات سے متعلق ہلاکتوں کی رپورٹ بےبنیاد قرار
دوسری جانب علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، کیونکہ کچھ روز بعد بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش پرتشدد جھڑپیں جماعت اسلامی زخمی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پرتشدد جھڑپیں جماعت اسلامی وی نیوز جماعت اسلامی افراد زخمی بنگلہ دیش بی این پی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔